کاروبار اور معیشت

بزنس فورم کا بجٹ کے کئی اہم پہلوؤں پر تشویش کا اظہار

  • پیٹرولیم لیوی میں 18 فیصد اضافے کا ہدف مہنگائی کو مزید بڑھائے گا، صدر خواجہ محبوب
شائع June 14, 2026 اپ ڈیٹ June 14, 2026 01:49pm

پاکستان بزنس فورم (پی بی ایف) نے وفاقی بجٹ 2026-27 پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے جرات مندانہ اقدامات کرنے میں ناکام رہا ہے۔

پی بی ایف کے صدر خواجہ محبوب الرحمٰن نے اشارہ کیا کہ پیٹرولیم لیوی میں 18 فیصد اضافے کا ہدف مہنگائی کو مزید بڑھائے گا، جس سے نقل و حمل اور پیداواری لاگت بلند رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات بڑھانے کے لیے بجٹ میں کوئی ٹھوس مراعات نہیں دی گئیں، جو کہ معاشی استحکام کے لیے ایک ضائع شدہ موقع ہے۔ فورم نے صنعتی بجلی و گیس کے ٹیرف پر حکومتی خاموشی پر بھی مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ آدھی صلاحیت پر چلنے والی صنعتوں کو توانائی سستی کیے بغیر بحال نہیں کیا جا سکتا۔

تاہم پی بی ایف نے سپر ٹیکس میں دو فیصد کمی اور 50 کروڑ روپے تک کے سالانہ ٹرن اوور والے کاروباروں کے لیے اسے مکمل ختم کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور اسے رئیل اسٹیٹ اور کنسٹرکشن سیکٹر کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیا۔

دوسری جانب فورم نے غیر دستاویزی معیشت کے پھیلاؤ پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کیش اکانومی ایک سال میں 9 ٹریلین سے بڑھ کر 12 ٹریلین روپے تک پہنچ گئی ہے، جو پالیسیوں کی ناکامی کا ثبوت ہے۔ انہوں نے انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت منیمم ٹیکس آن ٹرن اوور کی برقرار رکھنے پر بھی تنقید کی۔

قومی سلامتی کے حوالے سے پی بی ایف نے آپریشن بنیان مرصوص اور علاقائی چیلنجز کے پیشِ نظر دفاع کے لیے 3 ٹریلین روپے مختص کرنے کی توثیق کی۔

کپاس اور زراعت کی بحالی کے حوالے سے پی بی ایف نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ صدر پی بی ایف نے کہا کہ کپاس کے بیج اور کھادوں پر جی ایس ٹی اور ڈیوٹیز میں کمی کی امیدیں پوری نہیں ہوئیں۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ مقامی پیداوار میں کمی کی وجہ سے پاکستان کو اس سال تقریباً 1 ارب ڈالر کی کپاس درآمد کرنی پڑ سکتی ہے، جس سے زراعت پر مالی دباؤ برقرار رہے گا۔