ٹیکس تنازعات کے حل کیلئے ایف بی آر کا ڈیجیٹل نظام متعارف
- یہ نظام ٹیکس کارروائیوں کے ابتدائی مرحلے میں ہی تنازعات کے حل میں مدد دے گا
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس تنازعات کے جلد حل اور طویل قانونی چارہ جوئی میں کمی کے لیے ایک نیا ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا ہے، جس کا مقصد ٹیکنالوجی پر مبنی طریقہ کار کے ذریعے ٹیکس معاملات کو تیزی سے نمٹانا ہے۔
فنانس بل 2026 کے تحت متعارف کردہ نئی شق کے مطابق ایف بی آر کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ ایک ایسا ڈیجیٹل سسٹم قائم کرے جو فائنل اسیسمنٹ آرڈر جاری ہونے سے قبل رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کے لیے خودکار طور پر تصفیہ کی پیشکش تیار کر سکے۔
یہ نظام ٹیکس کارروائیوں کے ابتدائی مرحلے میں ہی تنازعات کے حل میں مدد دے گا، اور ٹیکس دہندگان کو شفاف اور خودکار فریم ورک کے تحت اپنے معاملات طے کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔
ٹیکس ماہر ارشد شہزاد کے مطابق یہ سسٹم مختلف عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے آفرز تیار کرے گا، جن میں کارروائی کا مرحلہ، ٹیکس دہندہ کی ایف بی آر کے ریکارڈ میں موجود کمپلائنس ہسٹری، نشاندہی شدہ خامی کی نوعیت اور دیگر متعلقہ عوامل شامل ہوں گے۔
مجوزہ نظام کے تحت جس ٹیکس دہندہ کو تصفیہ کی پیشکش موصول ہوگی، اسے دس دن کے اندر آئرس پورٹل کے ذریعے اسے قبول کرنا ہوگا اور مقررہ رقم جمع کرانا ہوگی۔ ادائیگی کے بعد متعلقہ نوٹس یا آڈٹ رپورٹ سے جڑے معاملات ختم تصور کیے جائیں گے۔
ماہرین کے مطابق یہ نظام مجموعی طور پر ٹیکس تنازعات میں کمی، بروقت حل اور رضاکارانہ تعمیل کے ذریعے ریونیو میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے، تاہم اس کے ساتھ اضافی نگرانی کے نظام کی ضرورت بھی محسوس کی گئی ہے۔
ارشد شہزاد نے تجویز دی کہ ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی جا سکتی ہے جو ٹیکس دہندگان کے جوابات اور اعتراضات کا جائزہ لے کر اسیسمنٹ کو حتمی شکل دینے میں مدد دے۔ ان کے مطابق اس سے تصفیہ کے عمل میں مزید بہتری اور انصاف کے تقاضوں کو بہتر طور پر یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدام پاکستان کے ٹیکس نظام کو جدید بنانے، ٹیکس دہندگان کے لیے تعمیل کے اخراجات کم کرنے اور ٹیکس معاملات میں شفافیت اور یقینی صورتحال بڑھانے کی وسیع کوششوں کا حصہ ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026