ریفائنریز کی اپ گریڈیشن، کیپیٹل گڈز کی درآمد پر سیلز ٹیکس معاف
- یہ اقدام مختلف شعبوں کو سہولت فراہم کرنے اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اعلان کردہ سیلز ٹیکس ریلیف پیکج کا حصہ ہے۔
حکومت نے فنانس بل 2026-27 کے تحت ریفائنری سیکٹر کی اپ گریڈیشن اور موجودہ ریفائنریز کی اوورہالنگ کے لیے کیپیٹل گڈز کی درآمد پر سیلز ٹیکس سے استثنا دے دیا ہے۔ یہ اقدام مختلف شعبوں کو سہولت فراہم کرنے اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اعلان کردہ سیلز ٹیکس ریلیف پیکج کا حصہ ہے۔
فنانس بل 2026-27 میں ریفائنری، الیکٹرک وہیکل (ای وی)، ایوی ایشن، شپنگ، پبلشنگ اور صحت کے شعبوں کے لیے سیلز ٹیکس میں ریلیف سے متعلق متعدد اقدامات شامل ہیں۔
بل کے مطابق میگزینز پر سیلز ٹیکس سے استثنا دیا گیا ہے جبکہ ٹیمپونز پر سیلز ٹیکس ختم کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ اسی طرح الیکٹرک وہیکلز کے لیے مکمل طور پر اسمبل نہ کیے گئے (سی کے ڈی) کٹس کی درآمد پر موجود استثنا کو 30 جون 2027 تک بڑھا دیا گیا ہے۔ ای وی سیکٹر سے متعلق سیلفن کلاؤز کی مدت بھی اسی تاریخ تک بڑھا دی گئی ہے۔
فنانس بل میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کے لیے ہوائی جہاز کے پرزہ جات کی درآمد یا لیزنگ پر سیلز ٹیکس استثنا کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔
حکومت نے شپنگ سیکٹر میں اسٹریٹجک سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے بھی سیلز ٹیکس استثنا دیا ہے جبکہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس اور جاری انسداد دہشت گردی آپریشنز کے لیے مخصوص درآمدات پر بھی رعایت دی گئی ہے۔
تاہم بل میں فیملی پلاننگ آلات پر موجود سیلز ٹیکس استثنا واپس لینے کی تجویز دی گئی ہے۔
ریونیو اقدامات کے تحت تیسرے شیڈول میں توسیع کرتے ہوئے مینوفیکچررز کو پیداوار کے مرحلے پر ہی کنزیومر قیمتوں پر سیلز ٹیکس ادا کرنے کا پابند بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔
بل میں ٹول مینوفیکچررز کے لیے غیر رجسٹرڈ خریداروں سے سیلز ٹیکس ودہولڈنگ کا نظام متعارف کرایا گیا ہے، جبکہ ایسوسی ایشن آف پرسنز (اے او پیز) اور افراد کے لیے غیر رجسٹرڈ افراد سے خریداری پر ودہولڈنگ سیلز ٹیکس کے دائرہ کار کو بھی وسیع کیا گیا ہے۔
مزید برآں ایسے مینوفیکچررز سے تین فیصد ویلیو ایڈڈ ٹیکس کی وصولی کی تجویز دی گئی ہے جو درآمد شدہ خام مال کو بغیر کسی تبدیلی کے اسی حالت میں فروخت کرتے ہیں۔
فنانس بل میں بعض سیلز ٹیکس جرائم پر سزاؤں کی شرح میں نرمی اور سیکشن 33 میں تین نئے جرائم شامل کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
سیلز ٹیکس نظام کو جدید بنانے کے لیے ڈیجیٹلائزیشن اور آٹومیشن کے اقدامات شامل کیے گئے ہیں، جن میں ایڈوانس رسید انوائس، الگورتھمک سیٹلمنٹ میکانزم، الیکٹرانک انوائسنگ سسٹم، نیشنل فیس لیس سینٹر اور پروڈکشن مانیٹرنگ سسٹم کی تعریفیں متعارف کرائی گئی ہیں۔
بل میں ٹیئرون ریٹیلرز کی تعریف کو واضح کرتے ہوئے 200 ملین روپے یا اس سے زائد سالانہ ٹرن اوور والے ریٹیلرز کو اس کیٹیگری میں شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
مزید یہ کہ اشیا کی ترسیل کے وقت کی وضاحت کی گئی ہے اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو اشیا کی ویلیو ایشن آؤٹ سورس کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔
فنانس بل میں اسٹیل سیکٹر کے لیے بجلی کی ماہانہ کھپت کی بنیاد پر سیلز ٹیکس عائد کرنے کا نیا طریقہ کار بھی متعارف کرایا گیا ہے۔
ایف بی آر کو ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کی حد بڑھانے یا کم کرنے کا اختیار دیا گیا ہے جبکہ ڈیبٹ اور کریڈٹ نوٹس کے الیکٹرانک اجرا کا نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ فیس لیس آڈٹ اور اسیسمنٹ سے متعلق نیا سیکشن 11 ایچ شامل کیا گیا ہے، جبکہ فیس لیس دائرہ اختیار، فیس لیس اپیلز اور نیشنل فیس لیس سینٹر کے قیام کی تجاویز بھی دی گئی ہیں۔
بل میں جعلی اور فلائنگ انوائسز کی حوصلہ شکنی کے لیے سیکشن 21 میں ترامیم کی گئی ہیں جبکہ سیکشن 23 میں تبدیلی کے ذریعے مستثنیٰ سپلائز پر بھی انوائس جاری کرنا لازمی قرار دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026