دنیا

بھارت مالیاتی خسارے میں جی ڈی پی کے 4.8 فیصد تک اضافے پر تیار، بلومبرگ

  • آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور سپلائی میں تعطل نے بھارت کو شدید متاثر کیا ہے
شائع June 12, 2026 اپ ڈیٹ June 12, 2026 07:20pm

بلومبرگ نیوز نے معاملے سے باخبر ایک اہلکار کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ بھارت رواں سال توقع سے زیادہ مالیاتی خسارے کے لیے خود کو تیار کر رہا ہے، کیونکہ ایران میں جاری جنگ کی وجہ سے ایندھن پر دی جانے والی سبسڈی کی لاگت بڑھ گئی اور حکومتی مالیات پر دباؤ پڑ رہا ہے۔

رائٹرز فوری طور پر اس رپورٹ کی تصدیق نہیں کر سکا ہے اور اس نے بھارت کی وزارتِ خزانہ سے اس پر مؤقف مانگا ہے۔رپورٹ کے مطابق تیل کا دنیا کا تیسرا بڑا درآمد کنندہ اور صارف ملک (بھارت) مالیاتی خسارے کو 50 بیسس پوائنٹس تک بڑھنے دینے پر تیار ہے، جس سے یہ خسارہ جی ڈی پی کے 4.8 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔ یاد رہے کہ یکم اپریل سے شروع ہونے والے رواں مالی سال کے لیے یہ ہدف 4.3 فیصد مقرر کیا گیا تھا۔

آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور سپلائی میں تعطل نے بھارت کو شدید متاثر کیا ہے، جس کی وجہ سے سرکاری ریٹیلرز کو پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تقریباً 8 فیصد اضافہ کرنا پڑا ہے۔ حکومت نے گھریلو صارفین کے لیے ایل پی جی سلنڈر پر دی جانے والی سبسڈی میں بھی کٹوتی کی ہے۔

بھارت اپنی ضرورت کا تقریباً 90 فیصد تیل باہر سے منگواتا ہے اور وہ ان ممالک میں شامل ہے جنہیں ایران جنگ کی وجہ سے عالمی توانائی کی سپلائی میں طویل تعطل سے سب سے زیادہ خطرہ لاحق ہے۔

ایک سرکاری اہلکار نے اس سے قبل بتایا تھا کہ رواں مالی سال کے دوران حکومت کی جانب سے کھاد پر دی جانے والی سبسڈی میں بھی 20 فیصد اضافے کا امکان ہے۔

بلومبرگ نیوز کی رپورٹ کے مطابق حکام فی الحال تمام آپشنز کھلے رکھ رہے ہیں اور رواں سال کے آخر میں مالیاتی صورتحال کا دوبارہ جائزہ لینے کا ارادہ رکھتے ہیں، جب نان ٹیکس ریونیو اور سبسڈی کی ضروریات کے بارے میں صورتحال مزید واضح ہو جائے گی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ حکومت خسارے کو قابو میں رکھنے کے لیے مختلف وزارتوں کے اخراجات میں ممکنہ کٹوتیوں کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔