کاروبار اور معیشت

بجٹ 2026-27: وہ اہم اصطلاحات جنہیں ہر پاکستانی کو جاننا چاہیے

  • فنانشل ایئر (مالی سال) بارہ ماہ کا وہ حسابی دورانیہ جس کے دوران بجٹ اور مالی رپورٹنگ کی جاتی ہے۔ پاکستان میں یہ یکم جولائی سے 30 جون تک ہوتا ہے۔
شائع June 12, 2026 اپ ڈیٹ June 12, 2026 05:20pm

حکومت جب آئندہ مالی سال کے لیے اپنا مالیاتی روڈ میپ پیش کرتی ہے تو جی ڈی پی، پرائمری سرپلس، پی ایس ڈی پی، سبسڈیز اور قرضوں کی ادائیگی جیسے الفاظ مرکزی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ ان اصطلاحات کو سمجھنا اس لیے ضروری ہے کہ اسی سے واضح ہوتا ہے کہ عوامی پیسہ کیسے جمع کیا جاتا ہے، کہاں خرچ ہوتا ہے اور کس طرح اس کا انتظام کیا جاتا ہے۔

وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب جمعہ کے روز مالی سال 2026-27 کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کریں گے۔

حکومت کی جانب سے آج بجٹ پیش کیے جانے سے قبل یہ ایک مختصر مگر مفید رہنما ہے جو آپ کو مالی بل کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے گا:

بجٹ
حکومت کا سالانہ مالی منصوبہ، جس میں متوقع آمدن اور اخراجات کی تفصیل شامل ہوتی ہے۔

فنانشل ایئر (مالی سال)
بارہ ماہ کا وہ حسابی دورانیہ جس کے دوران بجٹ اور مالی رپورٹنگ کی جاتی ہے۔ پاکستان میں یہ یکم جولائی سے 30 جون تک ہوتا ہے۔

گراس ڈومیسٹک پروڈکٹ (مجموعی ملکی پیداوار - جی ڈی پی)
کسی ملک میں مخصوص مدت کے دوران پیدا ہونے والی تمام اشیا اور خدمات کی مجموعی مالیت۔ بجٹ کے بیشتر اشاریے جی ڈی پی کے تناسب سے ظاہر کیے جاتے ہیں۔

ریونیو (آمدن)
حکومت کو ٹیکسوں، فیسوں، منافع، گرانٹس اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی مجموعی آمدن۔

ٹیکس ریونیو (ٹیکس آمدن)
براہِ راست اور بالواسطہ ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی آمدن، جیسے انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور کسٹمز ڈیوٹیز۔

نان ٹیکس ریونیو (غیر ٹیکس آمدن)
ٹیکس کے علاوہ حاصل ہونے والی آمدن، مثلاً سرکاری اداروں کے منافع، فیسیں، جرمانے اور ڈیویڈنڈز۔

ایکسپینڈیچر (اخراجات)
مالی سال کے دوران حکومت کے مجموعی اخراجات۔

کرنٹ ایکسپینڈیچر (کرنٹ اخراجات)
روزمرہ حکومتی امور پر ہونے والے اخراجات، جن میں تنخواہیں، پنشن، سبسڈیز اور قرضوں کی ادائیگی شامل ہے۔

ڈیولپمنٹ ایکسپینڈیچر (ترقیاتی اخراجات)
ان منصوبوں پر خرچ جن کا مقصد معاشی و سماجی ترقی ہو، جیسے انفراسٹرکچر، تعلیم اور صحت۔

پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی)
حکومت کی مالی معاونت سے چلنے والا ترقیاتی پروگرام، جس کے تحت انفراسٹرکچر اور ترقیاتی منصوبوں کی فنڈنگ کی جاتی ہے۔

فِسکل ڈیفیسٹ (مالی خسارہ)
وہ فرق جب حکومت کے کل اخراجات اس کی مجموعی آمدن سے بڑھ جائیں (قرضے کے بغیر حساب میں لیا جاتا ہے)۔

پرائمری ڈیفیسٹ / سرپلس (سود سے پہلے خسارہ / سرپلس)
عوامی قرضوں پر سود کی ادائیگی سے پہلے حکومتی آمدن اور اخراجات کا فرق۔ اگر اخراجات زیادہ ہوں تو پرائمری ڈیفیسٹ، اور اگر آمدن زیادہ ہو تو پرائمری سرپلس کہلاتا ہے۔

بجٹ ڈیفیسٹ (بجٹ خسارہ)
وہ صورت حال جب حکومتی مجموعی اخراجات اس کی کل آمدن سے بڑھ جائیں۔

بجٹ سرپلس (بجٹ فاضل)
جب حکومتی آمدن اخراجات سے زیادہ ہو۔

ڈیٹ سروسنگ (قرضوں کی ادائیگی)
حکومت کی جانب سے قرضوں پر سود اور اصل رقم کی واپسی کے لیے کی جانے والی ادائیگیاں۔

پٹرولیم لیوی (پٹرولیم پر حکومتی چارج)
پٹرول اور ڈیزل جیسی مصنوعات پر حکومت کی جانب سے عائد کردہ اضافی آمدن، جو ٹیکس نہیں بلکہ الگ حکومتی وصولی ہوتی ہے۔

ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو (ٹیکس و وصولی کا جی ڈی پی کے ساتھ تناسب)
یہ پیمانہ بتاتا ہے کہ معیشت کے مجموعی حجم (جی ڈی پی) کے مقابلے میں حکومت کتنا ٹیکس وصول کرتی ہے۔

ڈیٹ ٹو جی ڈی پی ریشو (قرض و معیشت کا تناسب)
یہ ظاہر کرتا ہے کہ ملک کے مجموعی قرضے اس کی معیشت (جی ڈی پی) کے کتنے حصے کے برابر ہیں۔

پبلک ڈیٹ (مجموعی حکومتی قرضہ)
وہ تمام قرضہ جو حکومت اندرونی اور بیرونی ذرائع سے لیتی ہے۔

سبسڈی (حکومتی مالی امداد)
وہ رقوم جو حکومت اشیاء یا خدمات سستی رکھنے کے لیے فراہم کرتی ہے۔

گرانٹ (بلاواپسی مالی امداد)
حکومت یا ڈونرز کی جانب سے دی جانے والی رقم جو واپس نہیں کرنی ہوتی۔

کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس (بیرونی حسابات کا توازن)
برآمدات اور ترسیلات زر کے مقابلے میں درآمدات اور بیرونی ادائیگیوں کا فرق۔

سپلیمنٹری گرانٹ (اضافی منظور شدہ بجٹ)
مالی سال کے دوران اصل بجٹ کے علاوہ منظور کی جانے والی اضافی رقم۔

ری وائزڈ ایسٹی میٹس (نظرثانی شدہ تخمینے)
مالی سال کے دوران آمدن اور اخراجات کے اپڈیٹ شدہ اندازے۔

بجٹ ایسٹی میٹس (ابتدائی بجٹ تخمینے)
آئندہ مالی سال کے لیے حکومت کی آمدن اور اخراجات کے ابتدائی اندازے۔