کاروبار اور معیشت

اقتصادی سروے 2025-26 کی اہم جھلکیاں

  • جی ڈی پی 4.2 فیصد کے ہدف کے مقابلے میں 3.7 فیصد رہی
شائع June 12, 2026 اپ ڈیٹ June 12, 2026 01:45pm

حکومتِ پاکستان نے جمعرات کو مالی سال 2025-26 کے لیے اقتصادی سروے جاری کیا جس کے مطابق ملک کی معیشت 3.7 فیصد کی شرح سے بڑھی جب کہ مالی سال 2026 کے مجوزہ بجٹ میں اس کے لیے 4.2 فیصد کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔

یہاں مالی سال 26-2025 کے دوران حکومتی کارکردگی کی اہم جھلکیاں درج ذیل ہیں:

  • مجموعی ملکی پیداوار( جی ڈی پی)4.2 فیصد کے ہدف کے مقابلے میں 3.7 فیصد رہی۔
  • مالی سال 2026 کے جولائی تا اپریل اوسط کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی/مہنگائی کی شرح) 6.19 فیصد رہی جب کہ گزشتہ سال اسی مدت کے دوران یہ 4.73 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔
  • فی کس آمدنی مالی سال 2025 کے 1,751 ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2026 میں 1,901 ڈالر ہوگئی۔
  • مالی سال 2026 میں زرعی شعبے نے 2.89 فیصد، صنعتی شعبے نے 3.51 فیصد کی شرح سے ترقی کی جبکہ خدمات (سروسز) کے شعبے میں 4.09 فیصد کا اضافہ ہوا۔
  • مالی سال 2026 کے جولائی سے مارچ کے دوران کے ایس ای-100 انڈیکس میں 18.4 فیصد کا اضافہ ہوا۔
  • مالی سال 2026 کے جولائی تا مارچ کرنٹ اکاؤنٹ میں 72 ملین ڈالر کا سرپلس رہا جبکہ گزشتہ سال اسی مدت کے دوران 1.7 ارب ڈالر کا سرپلس ریکارڈ کیا گیا تھا۔
  • ترسیلاتِ زر 8.2 فیصد کے اضافے کے ساتھ 30.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔
  • 15 مئی 2026 تک غیر ملکی زرِ مبادلہ ذخائر بڑھ کر 22.6 ارب ڈالر ہوگئے جس میں اسٹیٹ بینک کے ذخائر 17.1 ارب ڈالر اور کمرشل بینکوں کے ذخائر 5.5 ارب ڈالر ہیں۔
  • مالی سال 2026 کے جولائی تا مارچ امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی اوسط شرح مبادلہ (ایکسچینج ریٹ) 281.1 رہی۔
  • مارچ 2026 کے آخر تک ٹوٹل پبلک ڈیٹ 83,285 ارب روپے پر برقرار رہا۔
  • شرحِ خواندگی 63 فیصد رہی جس میں خواتین کی 54 فیصد شرح کے مقابلے میں مردوں کی شرحِ خواندگی 73 فیصد کے ساتھ زیادہ رہی۔
  • مالی سال 2026 کے جولائی تا مارچ آئی ٹی کی برآمدات 3.388 ارب ڈالر رہیں۔