کاروبار اور معیشت

جولائی تا مارچ بجلی کی کھپت میں 3.8 فیصد اضافہ

  • گھریلو اور زرعی کھپت میں کمی کا رجحان دیکھا گیا
شائع June 12, 2026 اپ ڈیٹ June 12, 2026 10:28am

رواں مالی سال 26-2025 کے پہلے نو ماہ (جولائی تا مارچ) کے دوران بجلی کی مجموعی کھپت میں 3.8 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تاہم گھریلو اور زرعی کھپت میں کمی کا رجحان دیکھا گیا، اس کی وجہ ٹیرف میں اضافے کے باعث متبادل توانائی کے ذرائع کی طرف ساختی منتقلی ہے جس نے عام آدمی کی قوتِ خرید کو کم کیا اور بجلی کی بچت کی ترغیب دی۔

اقتصادی سروے 2025-26 کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی تا مارچ پاکستان کی بجلی پیدا کرنے کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت 49 ہزار 651 میگاواٹ تک پہنچ گئی جو مالی سال 2025 کی اسی مدت میں ریکارڈ کیے گئے 45 ہزار 782 میگاواٹ کے مقابلے میں 8.5 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

اس اضافے کی بنیادی وجہ نیٹ میٹرنگ کے ذریعے شامل ہونے والی 7,319 میگاواٹ کی نصب شدہ صلاحیت ہے۔ تاہم اب تک فعال کیے گئے 102 نجی بجلی گھروں (آئی پی پیز) میں سے مختلف وجوہات کی بنا پر 5,105 میگاواٹ کی مجموعی صلاحیت کے حامل 13 آئی پی پیز بند کردیے گئے ہیں۔ ان بند ہونے والے بجلی گھروں میں آر ایف او (فرنس آئل) پر چلنے والے 2,877 میگاواٹ کے 9 آئی پی پیز، گیس یا آر ایل این جی پر چلنے والے 601 میگاواٹ کے 3 آئی پی پیز اور ملٹی فیول (مختلف ایندھن) پر چلنے والا 1,638 میگاواٹ کا 1 آئی پی پی شامل ہے۔

بجلی کی پیداوار میں ہائیڈل (پن بجلی) کا حصہ 23.4 فیصد، نیوکلیئر کا 7.1 فیصد، قابلِ تجدید توانائی (سولر، ونڈ وغیرہ) کا 20.3 فیصد اور تھرمل (حرارتی توانائی) کا حصہ 49.2 فیصد ہے۔ بجلی کی فراہمی کے سب سے بڑے ذرائع کے طور پر تھرمل پاور کے حصے میں گزشتہ چند سالوں کے دوران کمی آئی ہے جو مقامی اور ملکی ذرائع پر بڑھتے ہوئے انحصار کو واضح کرتی ہے۔

بجلی کی 92,835 گیگا واٹ آور کی مجموعی پیداوار میں سے ہائیڈل (پن بجلی)، نیوکلیئر اور قابلِ تجدید توانائی کا حصہ 53.1 فیصد ہے۔ یہ تبدیلی معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے کیونکہ توانائی کا مکس تھرمل پیداوار سے ہٹ کر زیادہ پائیدار اور ماحول دوست متبادل کی طرف منتقل ہورہا ہے۔ مالی سال 2026 کے جولائی تا مارچ پاکستان میں بجلی کی کل کھپت 83,143 گیگا واٹ آور رہی جبکہ مالی سال 2025 کے اسی عرصے میں یہ 80,811 گیگا واٹ آور تھی جو بجلی کے استعمال میں 3.8 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔

بجلی کی کھپت میں گھریلو شعبے (ہاؤس ہولڈ سیکٹر) کا غلبہ بدستور برقرار رہا تاہم مالی سال 2026 کے جولائی تا مارچ اس کا حصہ کم ہو کر 47.5 فیصد (39,472 گیگا واٹ آور) رہ گیا، جو مالی سال 2025 کے اسی عرصے میں 49.6 فیصد (39,730 گیگا واٹ آور) تھا۔ کھپت میں یہ کمی بجلی کے نرخوں (ٹیرف) میں اضافے کے باعث متبادل توانائی کے ذرائع کی طرف ایک ساختی منتقلی کو ظاہر کرتی ہے جس نے قوتِ خرید کو کم کیا اور بجلی کی بچت کی ترغیب دی ہے۔

اس کے برعکس صنعتی شعبے کی کھپت 21,083 گیگا واٹ آور سے بڑھ کر 26,205 گیگا واٹ آور ہو گئی جس سے مجموعی کھپت میں اس کا حصہ (شیئر) 26.3 فیصد سے بڑھ کر 31.5 فیصد ہو گیا۔

زرعی شعبے میں بجلی کے استعمال میں 42.3 فیصد کی نمایاں کمی دیکھی گئی جو 4,566 گیگا واٹ آور سے کم ہو کر 2,636 گیگا واٹ آور رہ گئی جس کے باعث مجموعی کھپت میں اس کا حصہ 5.7 فیصد سے 3.2 فیصد ہو گیا۔ اس تیز گراوٹ کی ممکنہ وجہ آبپاشی کے طریقوں میں تبدیلیاں، بارشوں کا تناسب اور بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ردعمل میں ڈیزل یا سولر (شمسی توانائی) کے متبادلات پر منتقلی ہے۔

کمرشل (تجارتی) شعبے میں بجلی کی کھپت میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو 6,898 گیگا واٹ آور سے بڑھ کر 7,044 گیگا واٹ آور ہو گئی۔ یہ اضافہ کاروباری اور ریٹیل (پرچون) سرگرمیوں میں جزوی بہتری کو ظاہر کرتا ہے، بالخصوص شہری مراکز میں۔ دوسری جانب دیگر کیٹیگری جس میں اسٹریٹ لائٹس، بلک سپلائی اور سرکاری عمارتیں شامل ہیں نے 7,785 گیگا واٹ آور بجلی استعمال کی جس سے مجموعی کھپت میں اس کا حصہ 9.8 فیصد سے معمولی کم ہو کر 9.4 فیصد رہ گیا۔

جائزہ مدت کے دوران اہم سنگِ میل حاصل کیے گئے کیونکہ شاہ تاج شوگر ملز کے 32 میگاواٹ کے بگاس (گنے کے پھوک) پر چلنے والے پاور پلانٹ نے 10 اکتوبر 2025 کو کمرشل آپریشنز ڈیٹ (سی او ڈی) حاصل کر لی اور اپنی 30 سالہ مدتِ حیات میں قومی گرڈ کو سالانہ 126 ملین یونٹ صاف توانائی فراہم کرنا شروع کر دی۔ مزید برآں، وزیرِ اعظم پاکستان نے گوادر کے علاقے میں 40 میگاواٹ کے بجلی کے منصوبے پر کام شروع کرنے کی اصولی منظوری دے دی ہے۔

ڈسٹری بیوٹڈ انرجی ریسورسز کے لیے ایک زیادہ متوازن، شفاف اور پائیدار فریم ورک قائم کرنے کی خاطر، حکومت نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ پر منتقلی پر غور کر رہی ہے۔ تھر کوئلے کی فراہمی کا آغاز ستمبر 2025 میں ہوا تھا اور اس میں مرحلہ وار اضافہ کیا جا رہا ہے جبکہ مارچ 2026 تک اس کی مکمل سپلائی شروع کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

فیز-3 کے کمرشل آپریشنز ڈیٹ (سی او ڈی) کے ساتھ ساتھ لگنائٹ کوئلے کے مکمل استعمال کی توقع 2026 کی تیسری سہ ماہی تک ہے جس سے یہ یقینی بنایا جائے گا کہ یہ پاور پلانٹ مکمل طور پر مقامی کوئلے پر چلے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026