دنیا

ایئر انڈیا حادثے کی حتمی رپورٹ مؤخر، انجنوں کا معائنہ تاحال مکمل نہ ہوسکا

  • 12 جون 2025 کو احمد آباد سے لندن جانے والی ایئر انڈیا کی بوئنگ 787 پرواز ٹیک آف کے فوراً بعد گر کر تباہ ہو گئی تھی
شائع June 11, 2026 اپ ڈیٹ June 11, 2026 01:56pm

ایئر انڈیا کے بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیارے کے گزشتہ سال پیش آنے والے مہلک حادثے کی تحقیقات مقررہ ایک سالہ مدت میں مکمل نہیں ہو سکیں گی، کیونکہ طیارے کے انجنوں کا امریکا میں جاری تفصیلی معائنہ ابھی تک مکمل نہیں ہوا۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق بھارت کا ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو جمعہ کو حادثے کی پہلی برسی سے قبل ایک اسٹیٹس رپورٹ جاری کرنے کا امکان رکھتا ہے، جس میں حتمی رپورٹ میں تاخیر کی وجوہات بیان کی جائیں گی۔

12 جون 2025 کو احمد آباد سے لندن جانے والی ایئر انڈیا کی بوئنگ 787 پرواز ٹیک آف کے فوراً بعد گر کر تباہ ہو گئی تھی، جس کے نتیجے میں 260 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہ گزشتہ ایک دہائی کا دنیا کا سب سے ہولناک فضائی حادثہ تھا۔

ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ طیارے کے دونوں انجنوں کے فیول کنٹرول سوئچ تقریباً بیک وقت رن سے کٹ آف پوزیشن میں چلے گئے تھے، جس کے باعث انجنوں کو ایندھن کی فراہمی بند ہو گئی اور طیارہ حادثے کا شکار ہو گیا۔

ذرائع کے مطابق حتمی رپورٹ آئندہ تین ماہ میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔ اس دوران امریکی ماہرین جنرل الیکٹرک کے انجنوں کا معائنہ مکمل کریں گے۔ یہ معائنہ امریکا میں اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ دنیا میں چند ہی مقامات ایسے ہیں جہاں انجنوں کو مکمل طور پر کھول کر جانچنے کی سہولت موجود ہے۔

تحقیقات کے دوران پائلٹس کے کردار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ گزشتہ سال سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق کاک پٹ کی ریکارڈنگ سے یہ تاثر ملا تھا کہ کپتان نے ممکنہ طور پر انجنوں کی فیول سپلائی بند کی تھی، تاہم اے اے آئی بی نے اس بارے میں کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے کو قبل از وقت قرار دیا تھا۔

ادھر پائلٹس کی تنظیم نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عبوری رپورٹ جاری کرنے سے پہلے مزید تکنیکی شواہد حاصل کیے جائیں تاکہ پائلٹ خودکشی کے نظریے کی مکمل جانچ کی جا سکے۔ ابتدائی رپورٹ میں بوئنگ یا جی ای ایرو اسپیس کے خلاف کوئی حفاظتی سفارش جاری نہیں کی گئی تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس مرحلے پر کسی تکنیکی خرابی کی نشاندہی نہیں ہوئی تھی۔