کاروبار اور معیشت

اسٹاک مارکیٹ میں خریداری کی واپسی، 100 انڈیکس 2,000 پوائنٹس بڑھ گیا

  • صبح 9 بجکر 55 منٹ پر بینچ مارک انڈیکس ساتھ 170,954.65 پوائنٹس پر جاپہنچا
شائع June 9, 2026 اپ ڈیٹ June 9, 2026 11:17am

ایران اور اسرائیل کی جانب سے ایک دوسرے پر حملے روکنے کے اعلان کے بعد منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں خریداری کا رجحان واپس لوٹ آیا جس کے نتیجے میں 100 انڈیکس میں ٹریڈنگ کے ابتدائی اوقات کے دوران 2,000 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ دیکھا گیا۔

صبح 9 بجکر 55 منٹ پر بینچ مارک انڈیکس 2,000.95 پوائنٹس یا 1.18 فیصد اضافے کے ساتھ 170,954.65 پوائنٹس پر جاپہنچا۔

گاڑیاں بنانے والے شعبے (آٹوموبائل اسمبلرز)، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، فرٹیلائزر، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں (ایکسپلوریشن کمپنیوں) اور او ایم سیز (آئل مارکیٹنگ کمپنیوں) سمیت اہم شعبوں میں خریداری کا رجحان دیکھا گیا۔ انڈیکس کے بڑے حصص بشمول ماری، اوجی ڈی سی، پی پی ایل، پی او ایل، ماری، پی ایس او، ایم ای بی ایل اور این بی پی بھی مثبت زون میں دکھائی دیے۔

پیر کو ایران اور اسرائیل کے درمیان حملوں کے نئے تبادلوں اور قریبی مدت میں سفارتی پیشرفت کی امیدیں معدوم ہونے کے باعث سرمایہ کار دفاعی حکمتِ عملی اپنانے پر مجبور رہے جس کے نتیجے میں جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال نے بہتر کاروباری سرگرمیوں کو بھی پس منظر میں دھکیل دیا اور اسٹاک ایکسچینج میں مزید ایک سیشن کے دوران مندی دیکھی گئی۔

گزشتہ روز بینچ مارک 100 انڈیکس 22 مئی 2026 کے بعد پہلی بار 170,000 پوائنٹس کی اہم نفسیاتی حد سے نیچے گرا اور 168,953.71 پوائنٹس پر بند ہوا۔

بین الاقوامی سطح پر اسرائیل اور ایران کی جانب سے فی الحال ایک دوسرے پر حملے روکنے کے اعلان کے بعد منگل کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں تیزی دیکھی گئی اور تیل کی قیمتیں بھی بلند ترین سطح سے نیچے آئیں جبکہ ہمیشہ پرامید رہنے والے سرمایہ کاروں نے سیمی کنڈکٹر کے حصص میں حالیہ مندی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بڑے پیمانے پر خریداری کی۔

تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ مارکیٹ میں یہ تیزی محدود نوعیت کی تھی کیونکہ گزشتہ رات مجموعی انڈیکس میں معمولی اضافے کے باوجود ایس اینڈ پی 500 کی 60 فیصد کمپنیاں مندی پر بند ہوئیں۔ ابتدائی تجارت کے دوران وال اسٹریٹ اور یورپ کے فیوچرز شیئرز میں بھی گراوٹ دیکھی گئی۔

دوسری جانب بانڈ کی بڑھتی ہوئی پیداوار حصص کی بڑھی ہوئی قدروں کے لیے بدستور ایک چیلنج بنی ہوئی ہے جبکہ آبنائے ہرمز کے راستے شپنگ اب بھی متاثر ہے۔

جنوبی کوریا کی اسٹاک مارکیٹ میں 3.4 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جو پیر کے روز 8 فیصد سے زیادہ گرگئی تھی کیونکہ مسلسل شاندار اضافے کے بعد حصص کی قدریں بہت زیادہ بڑھ گئی تھیں اور ریٹیل سرمایہ کاروں کے مارجن پوزیشنز حد سے تجاوز کر گئے تھے۔

جاپان کا نکی انڈیکس گزشتہ سیشن میں 3.9 فیصد گرنے کے بعد 0.9 فیصد مستحکم ہوا، جبکہ جاپان سے باہر ایشیا پیسیفک حصص کا ایم ایس سی آئی کا وسیع ترین انڈیکس 1.5 فیصد بڑھا۔

چینی بلیو چِپ کمپنیوں کے شیئرز میں 0.4 فیصد اضافہ ہوا کیونکہ تجارتی اعدادوشمار سے معلوم ہوا کہ مئی میں برآمدات میں 19.4 فیصد اور درآمدات میں 27.4 فیصد اضافہ ہوا اور یہ دونوں ہی اوسط پیش گوئیوں سے بہتر رہے۔ یہ مضبوطی ظاہر کرتی ہے کہ چین امریکی ٹیرف اور دیگر تجارتی رکاوٹوں کے باوجود نئی منڈیاں تلاش کرنے میں کامیاب رہا ہے، اگرچہ اس کی مقامی طلب اب بھی مشکلات کا شکار ہے۔

یہ انٹرا ڈے اپڈیٹ ہے