ایس ای سی پی: غیر ملکی اسپانسرز کمپنیوں کیلئے لائسنسنگ کا عمل آسان بنانے کا فیصلہ
- غیر ملکی ڈائریکٹرز کا تقرر متعلقہ حکام سے سیکیورٹی کلیئرنس ملنے سے مشروط رہے گا
پاکستان میں سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے کی کوشش میں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ایس ی پی) نے غیر ملکی اسپانسرز کی حامل کمپنیوں کیلئے لائسنسنگ کے عمل کو آسان بنا دیا ہے جس کے تحت درخواست کے مرحلے پر غیر ملکی ڈائریکٹرز کے لیے پہلے سے سیکیورٹی کلیئرنس کی شرط کو ختم کردیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد تاخیر کو کم کرنا اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
ریگولیٹر کے مطابق اب لائسنسنگ کی درخواستوں پر کارروائی ڈائریکٹرز کی جانب سے جمع کرائے گئے حلف ناموں کی بنیاد پر کی جائے گی جس کے تحت لائسنس جاری ہونے سے قبل سیکیورٹی کلیئرنس حاصل کرنے کی ضرورت ختم کر دی گئی ہے۔
تاہم غیر ملکی ڈائریکٹرز کا تقرر متعلقہ حکام سے سیکیورٹی کلیئرنس ملنے سے مشروط رہے گا۔ ایسی صورت میں جہاں سیکیورٹی کلیئرنس دینے سے انکار کر دیا جائے، کمپنی کے لیے لازم ہوگا کہ وہ کسی دوسرے متبادل ڈائریکٹر کو نامزد کرے۔
ایس ای سی پی کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے لائسنسنگ کی مدت میں نمایاں کمی آئے گی جس سے کاروباری آسانیاں پیدا ہونے کی توقع ہے، بالخصوص کیپٹل مارکیٹ، نان بینکنگ فنانس، انشورنس (بیمہ کاری) اور دیگر مالیاتی خدمات کے شعبوں کو اس کا بڑا فائدہ ہوگا۔
ریگولیٹر نے واضح کیا کہ سیکیورٹی کلیئرنس کے عمل میں لگنے والے طویل وقت کے باعث سرمایہ کار طویل عرصے سے اسے ایک بڑی رکاوٹ سمجھ رہے تھے۔
ایس ای سی پی کے چیئرمین کبیر سادھو کا کہنا ہے کہ اس اصلاحات کے ذریعے سرمایہ کاری کی سہولت کاری اور موثر ریگولیٹری نگرانی کو برقرار رکھنے کے درمیان ایک بہترین توازن قائم کیا گیا ہے۔
کبیر سادھو نے کہا کہ یہ اقدام سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنے اور مؤثر ریگولیٹری نگرانی کو یقینی بنانے کے درمیان ایک توازن قائم کرتا ہے۔