کاروبار اور معیشت

حکومت سے ای پی زیڈ انڈسٹریز کے لیے 80/20 اسکیم جاری رکھنے کا پرزور مطالبہ

  • ای پی زیڈز سالانہ تقریباً 1 ارب ڈالر کا زرِ مبادلہ کماتے، سہولت کی واپسی سے درجنوں صنعتی یونٹس بند ہو سکتے ہیں، میاں زاہد حسین
شائع June 7, 2026 اپ ڈیٹ June 7, 2026 12:58pm

آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر میاں زاہد حسین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز (ای پی زیڈ) کے لیے 80/20 سہولت برقرار رکھے۔ انہوں نے تشویش ظاہر کی کہ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت حکومت ستمبر 2026 تک زونز سے مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد فروخت پر مکمل پابندی لگانے اور 2035 تک ان زونز کو مرحلہ وار ختم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

میاں زاہد حسین نے خبردار کیا کہ اس سہولت کی واپسی سے سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہوگا اور درجنوں صنعتی یونٹس بند ہو سکتے ہیں۔ ای پی زیڈز سالانہ تقریباً 1 ارب ڈالر کا زرِ مبادلہ کماتے ہیں اور 50,000 ملازمین کو روزگار فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ پیداواری عمل کا 20 فیصد فضلہ اور بی/سی گریڈ مال مکمل کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکسوں کی ادائیگی کے بعد ہی مقامی مارکیٹ میں لایا جاتا ہے، جو کہ قانونی طور پر دستاویزی عمل ہے۔ انہوں نے وزیراعظم سے فوری مداخلت کی اپیل کی اور متبادل کے طور پر ای ایف ایس سہولت دینے کی تجویز پیش کی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026