کاروبار اور معیشت

پاکستان میں سب سے بڑا ڈیٹا سینٹر قائم کرنے کا فیصلہ، کیو جی ڈی سی کا 230 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان

  • آئندہ تین سے چار برسوں میں یہ سرمایہ کاری بڑھ کر600 ملین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، کمپنی
شائع June 6, 2026 اپ ڈیٹ June 6, 2026 04:31pm

گل احمد انرجی گروپ کا کوانٹم گلوبل ڈیٹا سینٹر (کیو جی ڈی سی) نے ایک ڈیٹا سینٹر قائم کرنے کے لیے 230 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے جو ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر شعبے میں اس کی توسیع کی علامت ہے۔

یہ پیش رفت اُس وقت سامنے آئی جب کیو جی ڈی سی اور ہوائی پاکستان نے کراچی میں منعقدہ کیو سمٹ کے دوران ایک اسٹریٹجک شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کیے جو پاکستان کے ڈیجیٹل تبدیلی کے سفر میں اہم سنگِ میل قرار دیا جارہا ہے۔

کمپنی نے کہا کہ آئندہ تین سے چار برسوں میں یہ سرمایہ کاری بڑھ کر600 ملین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔

بیان کے مطابق یہ تعاون جدید ترین سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کے ساتھ ساتھ پاکستان کے سب سے بڑے ٹیئر تھری ڈیٹا سینٹر کے قیام میں مددگار ثابت ہوگا جس سے ملک کے ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر اور جدت پر مبنی نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

یہ منصوبہ پاکستان کے سب سے بڑے ٹئیر تھری ڈیٹا سینٹر کے قیام پر مشتمل ہوگا جسے انتہائی مضبوط، محفوظ اور توسیع پذیر ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جو کلاؤڈ کمپیوٹنگ، مصنوعی ذہانت کے ورک لوڈز، ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ، ڈیجیٹل فنانس، ای-گورنمنٹ سروسز اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی ایپلی کیشنز کی معاونت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہوگا۔ اس منصوبے کا مقصد مقامی ہوسٹنگ صلاحیتوں کو بہتر بنانا، ڈیٹا خودمختاری کو مضبوط کرنا اور سرکاری و نجی دونوں شعبوں میں جدید ڈیجیٹل خدمات کے استعمال کو تیز کرنا ہے۔

شراکت داری کے اس معاہدے پر کیو جی ڈی سی کے چیف آپریٹنگ آفیسر عبید امان اللہ اور ہواوے پاکستان کے سی ای او اے آئی اینڈ کلاؤڈ بزنس احمد بلال مسعود نے دستخط کیے۔

کیو جی ڈی سی کے چیئرمین دانش اقبال نے کہا کہ ہواوے کے ساتھ یہ اشتراک پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کے لیے ایک انقلابی قدم کی حیثیت رکھتا ہے۔

پاکستان کے سب سے بڑے ٹیئر تھری ڈیٹا سینٹر اور عالمی معیار کے سائنس و ٹیکنالوجی پارک کی ترقی کے ذریعے ہم جدت، معاشی ترقی اور تکنیکی پیش رفت کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ یہ منصوبہ قومی صلاحیتوں کو مضبوط بنائے گا، سرمایہ کاری کو راغب کرے گا اور پاکستان کو ایک مسابقتی ڈیجیٹل معیشت کے طور پر ابھرنے میں معاون ثابت ہوگا۔

اپنے خطاب میں احمد بلال مسعود نے کہا کہ پاکستان ایک نئے ڈیجیٹل دور کی دہلیز پر کھڑا ہے اور یہ شراکت داری اس یقین کی عکاس ہے کہ اے آئی پر مبنی جدت کے لیے مضبوط ڈیجیٹل بنیادیں ناگزیر ہیں۔

جب جدید ڈیٹا سینٹرز ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ، محفوظ کلاؤڈ پلیٹ فارمز اور قابلِ اعتماد ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر یکجا ہوتے ہیں تو یہ کاروباری اداروں، حکومتوں اور معاشرے کے لیے نئے مواقع کی راہیں کھولتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں پاکستان کے سب سے بڑے ٹیئر تھری ڈیٹا سینٹر کے قیام اور ملک کے ڈیجیٹل تبدیلی کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیے کیو جی ڈی سی کے ساتھ مل کر کام کرنے پر فخر ہے۔

یہ شراکت داری ایک مضبوط ڈیجیٹل نظام کی تشکیل کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، جو ملک میں کلاؤڈ سروسز، اے آئی ایپلی کیشنز، ڈیجیٹل عوامی خدمات اور نئی نسل کی ٹیکنالوجیز کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہوگا، جبکہ جدت، سرمایہ کاری اور پائیدار معاشی ترقی کو بھی فروغ دے گا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی سندھ علی راشد نے ہواوے کے تعاون سے شروع کیے جانے والے کراچی ٹیکنوپولیس اور کوانٹم گلوبل ڈیٹا سینٹر منصوبے کے لیے حکومتِ سندھ کے مکمل تعاون اور عزم کا اعادہ کیا۔

انہوں نے زور دیا کہ یہ اقدامات کراچی میں ایک بنیادی ڈیجیٹل ایکو سسٹم قائم کریں گے اور پاکستان میں ڈیٹا سینٹرز اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ میں پیشرفت کی راہ ہموار کریں گے۔ صوبائی وزیر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مستقبل ڈیٹا اور آئی ٹی پر مبنی ہے اور اس وژن کو آگے بڑھانے کیلئے حکومت کی غیر متزلزل حمایت جاری رہے گی۔

گزشتہ ماہ ہواوے پاکستان اور کیو جی ڈی سی کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت اور ڈیزائن معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے جس کا مقصد اس منصوبے کی ترقی میں تعاون کرنا تھا جو پاکستان کے سب سے بڑے ڈیٹا سینٹر انفرااسٹرکچر میں سے ایک بننے جا رہا ہے۔

مفاہمتی یادداشت کے تحت ہواوے پاکستان ڈیٹا سینٹر کے ڈیزائن، تکنیکی منصوبہ بندی اور مخصوص سلوشنز کے ذریعے اس منصوبے میں معاونت فراہم کرے گا جو بین الاقوامی معیارات کے مطابق اگلی نسل کی، قابلِ توسیع اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر کی سہولت کے قیام کے لیے ضروری ہیں۔