کاروبار اور معیشت

ایس ای سی پی: 36 سرکاری کمپنیوں کے خلاف کارروائی مکمل، جرمانے عائد

  • رواں سال مارچ میں 41 سرکاری ملکیتی کمپنیوں کو 66 شوکاز نوٹسز جاری کیے گئے
شائع June 6, 2026 اپ ڈیٹ June 6, 2026 01:29pm

سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن پاکستان (ایس ای سی پی) نے 36 سرکاری ملکیتی اداروں (ایس او ایز) کے خلاف شوکاز کارروائیاں مکمل کرتے ہوئے مجموعی طور پر 31 لاکھ 75 ہزار روپے کے جرمانے عائد کیے ہیں۔

ایس ای سی پی کے مطابق رواں سال مارچ میں 41 سرکاری ملکیتی کمپنیوں کو 66 شوکاز نوٹسز جاری کیے گئے۔ کمپنیوں کی جانب سے مقررہ مدت کے اندر سالانہ آڈٹ شدہ مالیاتی گوشوارے اور سالانہ ریٹرنز جمع نہ کرانے، معلومات کی فراہمی تقاضوں پر عمل نہ کرنے اور کارپوریٹ گورننس ریگولیشنز کی دیگر خلاف ورزیوں پر جاری کیے گئے تھے۔

ایس ای سی پی کے مطابق 46 کیسز میں جرمانے عائد کیے گئے جبکہ دیگر 12 کیسز میں تنبیہی احکامات جاری کیے گئے۔

ریگولیٹر نے مزید بتایا کہ مجموعی طور پر 66 نوٹسز میں سے 58 کیسز میں کارروائی مکمل کر لی گئی ہے جبکہ بقیہ آٹھ نوٹسز پر کارروائی ابھی جاری ہے۔ شوکاز نوٹس کی کارروائی کے دوران کمپنیوں کو اپنا موقف پیش کرنے کے مناسب مواقع فراہم کیے گئے تھے۔

سالانہ ریٹرن جمع نہ کرانے پر کم از کم 25 ہزار روپے ، سالانہ ریٹرن اور مالیاتی گوشوارے دونوں جمع نہ کرانے پر 50 ہزار روپے جبکہ مسلسل اور بار بار قانونی تقاضوں کے مطابق فائلنگ نہ کرنے پر زیادہ سے زیادہ 2 لاکھ 25 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا، مجموعی طور پر 31 لاکھ 75 ہزار روپے کے جرمانے عائد کیے گئے۔

سرکاری ملکیتی اداروں میں شفافیت، اکاوئنٹیبلٹی اور گورننس کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے حکومت کی اصلاحاتی کوششوں کے تحت ایس ای سی پی سرکاری ملکیتی کمپنیوں میں کمپنیز ایکٹ اور کارپوریٹ گورننس کے تقاضوں پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔

ایس ای سی پی نے شوکاز پروسیڈنگ کے تمام قانونی تقاضے مکمل کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو نوٹسز کا جواب دینے اور سماعتوں کے دوران اپنا مؤقف پیش کرنے کے لیے مناسب وقت دیا ۔ شوکاز نوٹسز کے اجرا کے بعد کئی اداروں نے اپنے زیر التوا سالانہ ریٹرنز جمع کرا کے قانونی تقاضوں کی تکمیل بھی کی، تاہم ان کمپنیوں کی جاب سے لیٹ فائلنگ کرنے پر قانون کے مطابق جرمانے عائد کیے گئے۔

ایس ای سی پی نے سرکاری ملکیتی کمپنیوں کو سالانہ ریٹرنز اور دیگر قانونی دستاویزات جمع کرانے میں رہنمائی فراہم کرنے کے لیے ایک سہولت ڈیسک بھی قائم کیا ہے۔ ایس او ایز پر جرمانے عائد کیے جانے کے فیصلوں کی نقول متعلقہ اداروں کے پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسرز اور سنٹرل مانیٹرنگ یونٹ کے ڈائریکٹر جنرل کو ضروری کارروائی کے لیے ارسال کر دی گئیں ہیں۔

ایس ای سی پی نے تمام سرکاری ملکیتی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ کارپوریٹ گورننس کی کمپلائنس کو مزید مؤثر اور قانونی تقاضوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنائیں۔