حزب اللہ کے انکار سے لبنان میں جنگ بندی اور ایران جنگ کے خاتمے کی امیدیں دھندلا گئیں
- ایران نے واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی امن معاہدے کے لیے لبنان میں جنگ بندی کو لازمی شرط قرار دیا ہے
لبنان کی حزب اللہ نے جمعرات کو لبنان میں نئی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، جبکہ اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ اپنی فوجیں ملک سے واپس نہیں بلائے گا۔ اس پیش رفت سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی لبنان میں لڑائی رکوانے اور تہران کے ساتھ امن معاہدے کی راہ ہموار کرنے کی کوششوں کو دھچکا پہنچا ہے۔
ایران نے واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی امن معاہدے کے لیے لبنان میں جنگ بندی کو لازمی شرط قرار دے رکھا ہے، اور حالیہ دنوں میں عندیہ دیا ہے کہ اگر اسرائیل نے لبنان میں حملے جاری رکھے یا ان میں شدت لائی تو وہ اپنے اتحادی حزب اللہ کی حمایت میں براہِ راست مداخلت بھی کر سکتا ہے۔
لبنان کے صدر جوزف عون نے کہا کہ متعلقہ تمام فریقوں کی منظوری کے 24 گھنٹوں کے اندر جنگ بندی نافذ العمل ہو جائے گی۔ تاہم حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے امریکی اعلان مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ”مزاحمت جاری رہے گی“۔
نعیم قاسم کے بیان پر اسرائیل، لبنان یا امریکہ کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ بدھ کو اسرائیل اور لبنانی حکومت کے درمیان امریکی ثالثی میں طے پانے والے معاہدے میں حزب اللہ فریق نہیں ہے، تاہم جنگ بندی کے نفاذ کی صورت میں اسے بھی حملے روکنا ہوں گے۔
دوسری جانب اسرائیل نے جمعرات کو جنوبی لبنان میں حملے جاری رکھے۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ اسرائیلی فوج نہ تو علاقے سے انخلا کرے گی اور نہ ہی لبنان میں اپنی کارروائیاں روکے گی۔ اسرائیل نے مارچ میں ایران کے ساتھ جاری جنگ کے ساتھ ساتھ لبنان میں بھی فوجی کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس، جس نے 1982 میں حزب اللہ کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا تھا، کے کمانڈر نے کہا کہ ”مزاحمت کا کم از کم مطالبہ یہ ہے کہ اسرائیل ان پوزیشنوں پر واپس جائے جہاں وہ جنگ شروع ہونے سے پہلے موجود تھا۔“
پاسدارانِ انقلاب کے ایک علیحدہ بیان میں کہا گیا کہ ”علاقائی جنگ میں جنگ بندی قبول کرنے کے لیے ہماری ابتدائی شرط تمام محاذوں، بشمول لبنان، پر جنگ بندی تھی۔“
سرکاری میڈیا کے مطابق بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیل کو لبنان میں اپنے حملے بند کرنا ہوں گے، زیرِ قبضہ علاقوں سے انخلا کرنا ہوگا اور بین الاقوامی سرحدوں کے پیچھے واپس جانا ہوگا۔
حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جھڑپیں 2 مارچ کو دوبارہ شروع ہو گئی تھیں، جب گروپ نے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کی زد میں آنے والے تہران کی حمایت میں اسرائیلی اہداف پر فائرنگ کی تھی۔
یہ جنگ اپریل سے واشنگٹن کی جانب سے متعدد بار جنگ بندی کے اعلانات کے باوجود جاری ہے۔
خلیج میں کشیدگی میں اضافہ
لبنان میں جنگ بندی کی کوششیں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب خطے میں تشدد کی نئی لہر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگ ختم کرانے کی کوششوں کو ایک بار پھر خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔ بدھ کو ایران اور امریکی افواج نے خلیج میں ایک دوسرے پر حملے کیے، جو اپریل کے اوائل میں ایران پر بڑے پیمانے پر امریکی اور اسرائیلی بمباری رکنے کے بعد ہونے والی شدید ترین جھڑپوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔
حکام کے مطابق ایرانی افواج نے کویت پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں وہاں کے ہوائی اڈے کو نقصان پہنچا اور درجنوں افراد زخمی ہوئے، جبکہ امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے قریب کارروائیاں کیں۔
آبنائے ہرمز، جہاں سے معمول کے حالات میں دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی ترسیل ہوتی ہے، امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز کے تین ماہ سے زائد عرصے بعد بھی بڑی حد تک بند ہے۔
جمعرات کو تیل کی قیمتوں میں تقریباً 3 فیصد کمی دیکھی گئی، کیونکہ سرمایہ کاروں کو امید ہے کہ لبنان میں ممکنہ جنگ بندی واشنگٹن اور تہران کو جنگ سے نکلنے کے لیے سفارتی راستہ تلاش کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
اندرونِ ملک جنگ کے خاتمے اور ایندھن کی قیمتیں کم کرنے کے دباؤ کا سامنا کرنے والے صدر ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں جلد پیش رفت ہو سکتی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”اگر ایسا ہوتا ہے تو ممکن ہے کہ ہفتے کے اختتام تک ہو جائے،“، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ اس مدت کے دوران کس پیش رفت کی توقع کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فریقین آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے معاملے کو لبنان میں جاری تنازع سے الگ کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
ایران کا کویت ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کی تردید
کویتی حکام اور سرکاری میڈیا کے مطابق بدھ کو ہونے والے حملوں میں کویت کے ہوائی اڈے کی تنصیبات اور سفارتی مشنز کو نقصان پہنچا، جبکہ ایک شخص ہلاک اور 60 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ تباہی امریکی دفاعی میزائلوں کے باعث ہوئی، جو اپنے اہداف کو نشانہ بنانے میں ناکام رہے۔ دوسری جانب امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ایرانی ڈرونز نے جان بوجھ کر ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا۔
ایرانی میڈیا نے یہ بھی رپورٹ کیا کہ پاسدارانِ انقلاب نے بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر اور ایک امریکی فضائی اڈے پر حملے کیے۔
تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس کے کسی اڈے کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ کمانڈ کے مطابق ایران کی جانب سے مبینہ حملوں کی کوششوں کے بعد جنوبی ایران میں ”دفاعی کارروائیوں“ کا نیا سلسلہ شروع کیا گیا، جبکہ آبنائے ہرمز کے قریب واقع جزیرہ قشم پر بھی حملے کیے گئے۔
ایران نے امن معاہدے کے لیے شرائط مقرر کر دیں
گزشتہ ہفتے ایران اور امریکہ نے جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق ایک ابتدائی معاہدے کی جانب پیش رفت کے اشارے دیے تھے، تاہم دونوں فریق اب تک اس معاہدے کی باضابطہ منظوری نہیں دے سکے۔ مجوزہ معاہدے کے تحت زیادہ پیچیدہ معاملات پر مذاکرات بعد کے مرحلے میں کیے جائیں گے۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے جمعرات کو کہا کہ ایران کے دشمن میدانِ جنگ میں پہلے ہی شکست کھا چکے ہیں اور اب ملک کے اندر انتشار اور تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کی جنگ کے آغاز پر فضائی حملے میں ہلاکت کے بعد منصب سنبھالنے کے بعد سے عوامی سطح پر منظر عام پر نہیں آئے۔
لبنان میں جنگ بندی کو کسی بھی معاہدے کی شرط قرار دینے کے علاوہ تہران اربوں ڈالر کی تیل آمدن تک رسائی، خام تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں میں چھوٹ، اپنی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کے خاتمے اور آبنائے ہرمز سے متعلق مؤثر کردار کا بھی خواہاں ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کی اولین ترجیح ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے، جبکہ ایران مسلسل مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
دریں اثنا، اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے جمعرات کو رکن ممالک کو ایک رپورٹ ارسال کی، جس میں ایران سے ایک بار پھر مطالبہ کیا گیا کہ وہ ایک سال قبل اپنی جوہری تنصیبات پر بمباری کے بعد افزودہ یورینیم کے ذخائر کے بارے میں فوری طور پر آگاہ کرے اور جوہری تنصیبات کے معائنے کا عمل مکمل طور پر بحال کرنے کی اجازت دے۔