دنیا

توانائی بحران کے دوران بھارت وینزویلا کے ساتھ تجارتی ہم آہنگی بڑھانے کا خواہاں

  • وینزویلا توانائی کے شعبے میں بھارت کو اپنا ترجیحی شراکت دار سمجھتا ہے
شائع June 4, 2026 اپ ڈیٹ June 4, 2026 05:47pm

بھارت اور وینزویلا نے جمعرات کو توانائی کے شعبے میں اپنے تعلقات مضبوط بنانے پر زور دیا ہے، جبکہ نئی دہلی نے کہا ہے کہ کاراکس اسے اس شعبے میں ایک ترجیحی شراکت دار کے طور پر دیکھتا ہے، ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے باعث عالمی تیل کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔

وینزویلا کی قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگز ایک بڑے وزارتی وفد کے ہمراہ بھارت کے دورے پر ہیں اور انہوں نے جمعرات کو بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی سے بات چیت کی ہے۔

بھارتی وزارتِ خارجہ میں سیکرٹری (مشرق) رودرندر ٹنڈن نے مذاکرات کے بعد میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ دونوں فریقین کے درمیان بات چیت کا مرکز توانائی کے اپ اسٹریم اور ڈاؤن اسٹریم منصوبوں میں تعاون رہا۔

انہوں نے کہا: ”ہم ایک ایسی حکومت کے ساتھ کام کر رہے ہیں جو دوستانہ ہے اور بھارت کے ساتھ شراکت داری چاہتی ہے۔ ہم بھی اس کا مثبت جواب دینا چاہتے ہیں۔ وینزویلا روایتی طور پر ہمارا قریبی دوست رہا ہے۔ ہم نے بین الاقوامی سطح پر بہت قریبی تعاون کیا ہے، اس لیے ہم دراصل تعلقات کو معمول پر لا رہے ہیں۔“

انہوں نے مزید کہا کہ وینزویلا توانائی کے شعبے میں بھارت کو ایک ”ترجیحی شراکت دار“ کے طور پر دیکھتا ہے، اور ڈیلسی روڈریگز اپنے دورے کے دوران بھارت میں تیل صاف کرنے کی تنصیبات کا بھی دورہ کریں گی، جو 7 جون کو مکمل ہوگا۔

وہ مالیاتی دارالحکومت ممبئی میں بھارتی توانائی شعبے کے اعلیٰ رہنماؤں سے بھی ملاقات کریں گی، رائٹرز نے رپورٹ کیا۔

بھارت وینزویلا کے تیل کا اہم خریدار

بھارت مئی میں وینزویلا کے تیل کا دوسرا سب سے بڑا درآمد کنندہ تھا، جس نے روزانہ 427,000 بیرل کی خریداری کی، اور اس فہرست میں وہ امریکہ کے بعد دوسرے نمبر پر رہا، رائٹرز کے مطابق۔ بھارت کی ریلائنس انڈسٹریز حالیہ مہینوں میں وینزویلا کے خام تیل کے تین بڑے خریداروں میں شامل ہو گئی ہے۔

کےپلر ڈیٹا (Kpler data) کے مطابق اعداد و شمار کے مطابق وینزویلا مئی میں بھارت کو تیل فراہم کرنے والا چوتھا بڑا ملک بننے کے راستے پر ہے۔

روڈریگز کے دورے کا وقت اس لیے بھی اہم ہے کہ بھارت، جو دنیا کا تیسرا سب سے بڑا تیل درآمد کرنے اور استعمال کرنے والا ملک ہے، سپلائی میں رکاوٹوں کا سامنا کر رہا ہے۔ یہ صورتحال امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے باعث پیدا ہوئی ہے، جس نے آبنائے ہرمز کو تقریباً بند کر دیا ہے—یہ وہ اہم بحری راستہ ہے جس سے جنوبی ایشیا کی 40 فیصد سے زائد خام تیل کی درآمدات گزرتی ہیں۔

بھارت نے گزشتہ سال وینزویلا سے تیل کی خریداری روک دی تھی، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی امریکی ملک سے خام تیل خریدنے والے ممالک پر 25 فیصد صوابدیدی ٹیرف کی منظوری دی تھی۔ بعد ازاں فروری میں پابندیوں میں نرمی کے بعد، واشنگٹن اور کراکس کے درمیان ایک اہم تیل معاہدے کے تحت خریداری دوبارہ شروع کر دی گئی۔

معاہدے کے تحت، جو جنوری میں امریکی حکام کے ہاتھوں صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد طے پایا، واشنگٹن کو وینزویلا کے تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدن پر بینک اکاؤنٹس کے ذریعے کنٹرول حاصل ہے، جن کی نگرانی امریکی محکمہ خزانہ کرتا ہے، جبکہ تجارتی شرائط بھی اسی کی رہنمائی میں طے پاتی ہیں۔