کاروبار اور معیشت

حکومت نے ادویات کیلئے ملک گیر ٹریک اینڈ ٹریس نظام کی منظوری دیدی

  • یہ ایک تاریخی اقدام ہے جس کا مقصد ملک سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کا خاتمہ کرنا ہے، وزیر صحت
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی وزیر برائے قومی صحت خدمات و ضوابط مصطفیٰ کمال نے جمعرات کے روز اعلان کیا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری دے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک تاریخی اقدام ہے جس کا مقصد ملک سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کا خاتمہ کرنا ہے۔

وزیر صحت کے مطابق اس نظام کے تحت ملک میں فروخت ہونے والی ہر دوا محفوظ، مؤثر، شفاف، ڈیجیٹل طور پر قابلِ سراغ اور قابلِ تصدیق ہوگی۔ یہ اقدام مینوفیکچررز سے لے کر فروخت کنندگان تک مکمل احتساب کو یقینی بنانے میں مدد دے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس نظام کے نفاذ کے بعد صارفین کسی بھی دوا کے بارے میں اس کی ایکسپائری تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت جیسی معلومات حاصل کر سکیں گے، جس سے عوام کو بہتر اور باخبر طبی فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔

وزارتِ صحت کے ترجمان کے مطابق کابینہ نے ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی ہے، تاکہ سپلائی چین کے دوران ادویات کی نگرانی اور تصدیق کے لیے جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جا سکے۔

نئے ریگولیٹری فریم ورک کے تحت تمام فارماسیوٹیکل کمپنیوں اور ادویات درآمد کرنے والوں کو ادویات کی پیکنگ پر معیاری 2 ڈی بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا لازمی ہوگا۔

یہ نظام ریگولیٹرز کو ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک فراہمی تک مکمل نگرانی کی سہولت فراہم کرے گا، جس سے جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔

وزیر صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں محفوظ اور معیاری ادویات کی دستیابی کے لیے ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام سے ملک سے جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے میں نمایاں مدد ملے گی۔

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) اس ٹریک اینڈ ٹریس نظام کے ملک گیر نفاذ کی نگرانی کرے گی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026