ایران امن مذاکرات پر سرمایہ کاروں کی نظریں، ڈالر کی قدر مستحکم
- گزشتہ ہفتے امریکی ڈالر انڈیکس میں 0.4 فیصد کمی دیکھی گئی تھی
عالمی مالیاتی منڈیوں میں امریکی ڈالر پیر کے روز مستحکم رہا، جبکہ سرمایہ کار مشرق وسطیٰ میں جاری امن مذاکرات کے نتائج اور مرکزی بینکوں کی جانب سے شرح سود میں ممکنہ اضافے کے اشاروں کے منتظر ہیں۔
گزشتہ ہفتے امریکی ڈالر انڈیکس میں 0.4 فیصد کمی دیکھی گئی تھی، جس کی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ کھولنے سے متعلق ممکنہ معاہدے کی امیدیں تھیں۔ تاہم پیر کو ڈالر انڈیکس 99.00 کی سطح پر تقریباً مستحکم رہا۔
دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف فوجی کارروائیوں میں شدت لانے کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا، جس سے مہنگائی کے خدشات دوبارہ بڑھ گئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ جلد ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے مجوزہ معاہدے پر فیصلہ کریں گے۔
ماہرین کے مطابق امریکی ڈالر کی سمت کا انحصار ایران جنگ بندی سے متعلق پیش رفت اور رواں ہفتے جاری ہونے والے امریکی روزگار کے اعداد و شمار پر ہوگا۔ آسٹریلیا کے کامن ویلتھ بینک کے تجزیہ کار جوزف کیپورسو نے کہا کہ آبنائے ہرمز کھلنے کے بعد تیل کی قیمتوں کا دباؤ کم ہوگا اور شرح سود دوبارہ ڈالر کی قدر پر اثر انداز ہونے والا اہم عنصر بن جائے گی۔
رائٹرز کے سروے کے مطابق 5 جون کو جاری ہونے والی امریکی نان فارم پے رولز رپورٹ میں بے روزگاری کی شرح 4.3 فیصد رہنے اور 85 ہزار نئی ملازمتوں کے اضافے کی توقع ہے۔
ادھر مالیاتی منڈیاں اس بات پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں کہ امریکی فیڈرل ریزرو رواں سال کے اختتام تک شرح سود کو 3.50 تا 3.75 فیصد کی موجودہ حد سے مزید بڑھا سکتا ہے۔ یورپی مرکزی بینک اور جاپان کے مرکزی بینک کے آئندہ فیصلے بھی عالمی کرنسی منڈیوں کے لیے اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔