بھارت نے ففتھ جنریشن کے جنگی طیاروں کے لیے تجاویز طلب کر لی ہیں، اے این آئی کی رپورٹ
- بھارت نے مقامی سطح پر ففتھ جنریشن کے جنگی طیاروں کی تیاری کے منصوبے کو آگے بڑھا دیا ہے، اور قومی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے تین ملکی کمپنیوں نے تجاویز جمع کرا دی ہیں
بھارت نے مقامی سطح پر ففتھ جنریشن کے جنگی طیاروں کی تیاری کے لیے ابتدائی تجاویز طلب کر لی ہیں، خبر رساں ادارے اے این آئی نے بدھ کے روز دفاعی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق شارٹ لسٹ کیے گئے تین بولی دہندگان میں ٹاٹا ایڈوانسڈ سسٹمز، لارسن اینڈ ٹوبرو اور بھارت الیکٹرانکس کے مشترکہ منصوبے، اور بھارت فورج اور بی ای ایم ایل کا جوائنٹ وینچر شامل ہیں،یہ تمام بھارتی کمپنیاں ہیں۔
بھارت نے گزشتہ سال اسٹیلتھ جنگی طیاروں کی تیاری کا پروگرام منظور کیا تھا اور اسی سلسلے میں دفاعی کمپنیوں سے دلچسپی طلب کی گئی تھی، یہ اقدام اُس فوجی کشیدگی کے چند ہفتے بعد سامنے آیا تھا جو پاکستان کے ساتھ پیش آئی تھی۔
یہ پروگرام بھارتی فضائیہ کی صلاحیت بڑھانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، جس کے بیڑے میں زیادہ تر روسی ساختہ طیارے شامل ہیں اور حالیہ مہینوں میں اس کے اسکواڈرن کی تعداد منظور شدہ 42 کے مقابلے میں 30 سے کم رہ گئی ہے۔
یہ پیش رفت وزیرِاعظم نریندر مودی کے اس وسیع تر وژن سے بھی ہم آہنگ ہے جس کا مقصد مقامی پیداوار کو فروغ دینا اور بھارت کی دفاعی صلاحیت کو بڑھانا ہے تاکہ پاکستان اور چین دونوں کے ممکنہ خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے۔
امریکا نے بھارت کو جدید ایف-35 جنگی طیارے کی پیشکش کی ہے جبکہ روس نے اپنے پانچویں نسل کے ایس یو-57 طیارے کی پیشکش کی ہے، تاہم بھارت نے دونوں آپشنز سے محتاط فاصلہ برقرار رکھا ہے۔
بھارت طویل عرصے سے اپنی افواج کے لیے زیادہ تر اسلحہ اور مشینری درآمد کرتا رہا ہے، تاہم مودی حکومت کی مقامی صنعت کے فروغ کی پالیسی کے باعث دفاعی پیداوار میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
مالی سال 2025 کے اختتام پر بھارت کی دفاعی پیداوار ریکارڈ 1.54 ٹریلین روپے (تقریباً 16.09 ارب ڈالر) تک پہنچ گئی ہے۔