کاروبار اور معیشت

ایف بی آر جان بوجھ کر سیلز ٹیکس رجسٹریشنز ان ایکٹو کر رہا ہے، ماہرین

  • دسمبر 2025 کے گوشوارے کو ان لاک نہ کرنے کے باعث ایک کے بعد ایک مسائل پیدا ہونا شروع ہوگئے، وحید شہزاد بٹ
شائع اپ ڈیٹ

ٹیکس ماہرین نے الزام عائد کیا ہے کہ ایف بی آر اضافی سیلز ٹیکس کے نفاذ کے ذریعے مزید آمدنی حاصل کرنے کیلئے جان بوجھ کر سیلز ٹیکس رجسٹریشنز کو غیر فعال قرار دے رہا ہے۔

ٹیکس ایڈوائزرز کی جانب سے ناقص انتظامات، اختیارات کے ناجائز استعمال اور دانستہ غفلت کے سنگین الزامات لگائے گئے ہیں۔

کیس کی پیروی کرنے والے وحید شہزاد بٹ نے الزام عائد کیا ہے کہ ایف بی آر کے حکام غیر قانونی طور پر سیلز ٹیکس گوشوارے (ریٹرنز) جمع کرانے سے روک رہے ہیں تاکہ زبردستی ٹیکس کی اضافی رقم (ایکسٹرا سیلز ٹیکس) وصول کی جاسکے، اس عمل نے پاکستان کے سب سے بڑے ٹیکس جمع کرنے والے ادارے میں احتساب اور قانون کی حکمرانی پر سنگین اور فوری نوعیت کے سوالات کھڑے کردیے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ایک کمپنی نے دسمبر 2025 کا ماہانہ سیلز ٹیکس ریٹرن ایف بی آر کے ویب پورٹل کے ذریعے عارضی طور پر جمع کرایا۔ جمع کرانے کے بعد ریٹرن خودکار طور پر ایف بی آر سسٹم نے لاک کردیا کیونکہ اینیکسچر ایچ-ون میں منفی (نیگیٹو) رقم ظاہر ہوئی تھی جو عارضی فائلنگ کے وقت نامکمل اینیکسچر جمع کرانے کے باعث پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی کا نتیجہ تھی۔

اس طرح کے سسٹم کے ذریعے خودکار طور پر لگنے والے لاک کو ختم کرنے کے لیے ایف بی آر کے مجاز افسران کی انتظامی مداخلت ضروری ہوتی ہے، تاہم ٹیکس دہندہ کے مطابق اس حوالے سے بار بار درخواستیں دی گئیں مگر کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ دسمبر 2025 کے گوشوارے کو ان لاک نہ کرنے کے باعث ایک کے بعد ایک مسائل پیدا ہونا شروع ہوگئے جس کی وجہ سے جنوری 2026 اور اس کے بعد کے گوشوارے بھی التوا کا شکار رہے۔ نتیجے کے طور پر، ایف بی آر (کے سسٹم نے کمپنی کی سیلز ٹیکس رجسٹریشن کو خود بخود ان ایکٹو کر دیا، یہ ایک ایسی حالت ہے جو پاکستان کی باقاعدہ معیشت میں کام کرنے والے کسی بھی رجسٹرڈ کاروبار کے لیے سنگین تجارتی اور قانونی نتائج کا باعث بنتی ہے۔

وحید شہزاد بٹ نے مزید بتایا کہ اس سلسلے میں ایک باضابطہ تحریری درخواست سیکرٹری (سیلز ٹیکس آپریشنز) کو بھیجی گئی تھی۔ اس کے بعد ایف بی آر ہیڈ کوارٹرز کے متعدد ذاتی دورے بھی کیے گئے جن کا تحریری ریکارڈ بھی موجود ہے۔ ہر موقع پر متعلقہ حکام سے ذاتی طور پر ملاقات کی گئی لیکن ہر بار نہ تو کوئی اصلاحی اقدام اٹھایا گیا اور نہ ہی کوئی تحریری جواب جاری کیا گیا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026