کاروبار اور معیشت

پاکستان کا پہلا کوئلے سے کھاد بنانے کا منصوبہ، ایف ایف سی اور چینی کمپنی میں معاہدہ طے

  • ملک کا پہلا کوئلے سے کھاد بنانے کا پلانٹ، مقامی کوئلے سے سالانہ 7 لاکھ 17 ہزار ٹن یوریا تیار کی جائے گی
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان کی معروف کھاد بنانے والی کمپنی فوجی فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ (ایف ایف سی ) نے ایک چینی کمپنی کے ساتھ فرنٹ اینڈ انجینئرنگ ڈیزائن (ایف ای ای ڈی) کے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ کمپنی کے مطابق یہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک 2.0) کے دوسرے مرحلے کے فریم ورک کے تحت پاکستان کا پہلا کوئلے سے کھاد بنانے کا منصوبہ ہے۔

کمپنی نے سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے اس اہم پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ معاہدہ 24 مئی 2026 کو چین میں ’ہوالو انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کمپنی لمیٹڈ‘ کے ساتھ طے پایا ہے۔

ایف ایف سی کا کہنا ہے کہ 1.12 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے شروع ہونے والے اس منصوبے سے سالانہ 7 لاکھ 17 ہزار ٹن یوریا پیدا ہونے کی توقع ہے، جس میں ہر سال تقریباً 21 لاکھ ٹن مقامی کوئلہ استعمال کیا جائے گا۔ یہ منصوبہ ملک میں کھاد کے تحفظ کو یقینی بنانے، مقامی وسائل کو کارآمد بنانے اور پاکستان کی طویل مدتی صنعتی ترقی کو سہارا دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔

کمپنی نے مزید بتایا کہ اس پلانٹ کو 31-2030 تک فعال کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے جو پاکستان کی پائیدار اقتصادی ترقی، خود انحصاری اور جدت طرازی کے لیے ایف ایف سی کے مستقل عزم کا عکاس ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان سی پیک کے دوسرے مرحلے کے تحت چین کی نئی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف کے دورہ بیجنگ کے اختتام پر دونوں ممالک کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ اعلامیے کے مطابق پاکستان اور چین نے اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید گہرا کرنے پر وسیع پیمانے پر نیا اتفاقِ رائے پایا ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کی اعلیٰ معیار کی ترقی کو فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے اور اس منصوبے کی ترقی میں تیسرے فریق کی شرکت کا بھی خیرمقدم کیا ہے۔