خود ساختہ صومالی لینڈ : پاکستان اور دیگر ممالک کی یروشلم میں سفارت خانے کے قیام کی مذمت
- مشرقی یروشلم 1967 سے مقبوضہ فلسطینی علاقہ ہے اور اس کی تاریخی و قانونی حیثیت بدلنے کا ہر اقدام کالعدم ہے، وزرائے خارجہ
پاکستان، سعودی عرب اور متعدد مسلم ممالک نے خود ساختہ خطے صومالی لینڈ کی جانب سے مقبوضہ یروشلم (بیت المقدس) میں مبینہ سفارت خانہ کھولنے کے اقدام کی شدید مذمت کی ہے اور اس قدم کو غیر قانونی اور ناقابل قبول قرار دیا ہے۔
جاری مشترکہ اعلامیے کے مطابق پاکستان، مصر، ریاستِ قطر، ہاشمی مملکتِ اردن، جمہوریہ لبنان، جمہوریہ ترکیہ، جمہوریہ انڈونیشیا، جمہوریہ جبوتی، وفاقی جمہوریہ صومالیہ، ریاستِ فلسطین، سلطنتِ عمان، جمہوریہ سوڈان اور جمہوریہ یمن کے وزرائے خارجہ نے اس اقدام کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ اس نام نہاد سفارت خانے کا افتتاح بین الاقوامی قانون اور متعلقہ بین الاقوامی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے اور مقبوضہ یروشلم کی قانونی اور تاریخی حیثیت پر براہِ راست تجاوز کی نمائندگی کرتا ہے۔
وزرائے خارجہ نے مقبوضہ یروشلم میں ایک غیر قانونی حقیقت مسلط کرنے یا بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرنے والے انتظامات کو قانونی حیثیت دینے کے مقصد سے کیے جانے والے کسی بھی یکطرفہ اقدامات کو قطعی طور پر مسترد کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اس میں کہا گیا ہے کہ وہ اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ مشرقی یروشلم 1967 سے مقبوضہ فلسطینی علاقہ ہے اور اس کی قانونی اور تاریخی حیثیت کو تبدیل کرنے کے ارادے سے کیا جانے والا کوئی بھی اقدام کالعدم اور باطل ہے اور اس کا کوئی قانونی اثر نہیں ہے۔
وزرائے خارجہ نے وفاقی جمہوریہ صومالیہ کی وحدت، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی مکمل حمایت اور کسی بھی ایسے یکطرفہ اقدامات کو یکسر مسترد کرنے پر مزید زور دیا جو صومالی سرزمین کی وحدت کو نقصان پہنچاتے ہوں یا اس کی خودمختاری پر اثر انداز ہوتے ہوں۔