فلائنگ انوائسز، بجٹ میں ای ایف ایس اسکیم پر نظرثانی کی تجویز
- دستاویزی شعبوں کا بجٹ تجاویز ای ایف ایس کے تحت کمرشل امپورٹرز کو دیا گیا استثنیٰ ختم کرنے کا مطالبہ
حکومت بجٹ 27-2026 میں ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن اسکیم (ای ایف ایس) پر نظرثانی کی ایک تجویز کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ کمرشل امپورٹرز کی جانب سے مقامی مارکیٹوں میں فلائنگ انوائسز کے بڑے پیمانے پر ہونے والے غلط استعمال کو روکا جاسکے۔
ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ ان تجاویز میں سے ایک یہ ہے کہ ای ایف ایس کے تحت کمرشل امپورٹرز کو حاصل وہ استثنیٰ واپس لیا جائے جو انہیں مقامی مارکیٹ میں اپنی سیلز ٹیکس انوائس منتقل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
دستاویزی شعبوں نے بھی بجٹ تجاویز جمع کرائی ہیں جن میں ای ایف ایس کے تحت کمرشل امپورٹرز کو دیا گیا استثنیٰ ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
دستاویزی شعبوں کے مقتدر اسمبلرز اور مینوفیکچررز بشمول اسٹیل انڈسٹری جو اخلاقی طور پر خزانے میں ہر قسم کے ڈیوٹیز اور ٹیکسز کا بڑا حصہ جمع کراتے ہیں، اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہیں اور ان کے لیے بقا برقرار رکھنا ناممکن ہورہا ہے جس کی وجہ ٹیکس ادا کرنے کے پابند اداروں اور ٹیکس و ڈیوٹی چوری کرنے والوں کے درمیان جاری غیر منصفانہ مقابلہ ہے۔
غیر منصفانہ مقابلے کے خاتمے, یکساں مواقع (لیول پلیئنگ فیلڈ) کی فراہمی اور سب سے بڑھ کر حکومتی ریونیو میں اضافے کو یقینی بنانے کے لیے یہ تجویز دی گئی ہے کہ ای ایف ایس کے تحت کمرشل امپورٹرز کو حاصل وہ استثنیٰ ختم کیا جائے جو انہیں مقامی مارکیٹ میں اپنی سیلز ٹیکس انوائس منتقل کرنے کی اجازت دیتا ہے تاکہ اس اسکیم کے تحت فلائنگ انوائسز کے بڑے پیمانے پر ہونے والے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی ان پٹ ٹیکس کے غلط استعمال کو چیک کرنے کے لیے سیلز ٹیکس ایکٹ کے چھٹے شیڈول کے ٹیبل ٹو کے سیریل نمبر 57 کو بھی معقول بنانے کی ضرورت ہے۔
دستاویزی شعبوں نے اس اسکیم کے تحت درآمدی مرحلے پر ڈسکاؤنٹ ریٹ کو بھی 17.5 فیصد سے کم کرکے 0 فیصد کرنے کی تجویز دی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026