دنیا

روس نے مشقوں کے دوران بیلاروس میں جوہری اسلحہ منتقل کر دیا

  • تین روزہ جوہری مشقیں منگل سے روس اور بیلاروس میں جاری ہیں
شائع اپ ڈیٹ

روس کی وزارتِ دفاع نے جمعرات کو کہا ہے کہ بڑے پیمانے پر جاری جوہری مشقوں کے دوران بیلاروس میں فیلڈ اسٹوریج تنصیبات تک جوہری اسلحہ منتقل کر دیا گیا ہے۔

تین روزہ جوہری مشقیں منگل سے روس اور بیلاروس میں جاری ہیں۔ یہ مشقیں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب ماسکو کے بقول روس یوکرین کے معاملے پر مغرب کے ساتھ ایک وجودی جنگ میں مصروف ہے۔

روسی وزارتِ دفاع کے مطابق جوہری افواج کی مشقوں کے تحت بیلاروس میں میزائل بریگیڈ کے مقام پر واقع فیلڈ اسٹوریج تنصیبات تک جوہری ہتھیار پہنچائے گئے۔

روس نے بتایا کہ بیلاروس میں میزائل یونٹ موبائل اسکینڈر-ایم ٹیکٹیکل میزائل سسٹم کے لیے خصوصی اسلحہ وصول کرنے کی تربیت حاصل کر رہی ہے، جس میں لانچ گاڑیوں پر اسلحہ لوڈ کرنا اور خفیہ طور پر لانچ کی تیاری کے لیے مخصوص مقام تک منتقل ہونا شامل ہے۔

وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری ویڈیو میں ایک ٹرک کو جنگل کے راستے گزرتے اور ایک شے اتارتے ہوئے دکھایا گیا، تاہم فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ کیا منتقل کیا جا رہا تھا۔

اسکینڈر-ایم ایک موبائل گائیڈڈ میزائل سسٹم ہے جسے نیٹو ایس ایس-26 اسٹون کے نام سے جانتا ہے۔ یہ سوویت دور کے اسکڈ میزائل کی جگہ استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے میزائل تقریباً 500 کلومیٹر تک مار کر سکتے ہیں اور روایتی یا جوہری وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن یوکرین جنگ کے دوران بارہا روسی جوہری طاقت کا حوالہ دیتے رہے ہیں تاکہ مغربی ممالک کو کیف کی حمایت میں حد سے آگے جانے سے خبردار کیا جا سکے۔

ادھر کریملن نے لتھوانیا کے وزیر خارجہ کیسٹوٹِس بُدریس کے بیان کو دیوانگی کے قریب قرار دیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ نیٹو کو ماسکو کو دکھانا ہوگا کہ وہ روسی علاقے کالینن گراڈ تک رسائی حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔