ایران امن معاہدے کی امیدیں، ڈالر کی قدر میں کمی
امریکی ڈالر جمعرات کے روز چھ ہفتوں کی بلند ترین سطح سے نیچے آ گیا، کیونکہ مارکیٹوں میں یہ امید بڑھ گئی کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مشرق وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ قریب ہے، جس سے محفوظ سرمایہ کاری کی طلب کم ہو گئی۔
آسٹریلوی ڈالر بھی کمزور ہوا، کیونکہ آسٹریلیا میں بے روزگاری کی شرح غیر متوقع طور پر بڑھ کر 2021 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جس سے شرح سود میں اضافے کے امکانات کم ہو گئے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات آخری مراحل میں ہیں، تاہم انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ اگر تہران نے معاہدہ قبول نہ کیا تو مزید حملے کیے جا سکتے ہیں۔
ڈالر، جو روایتی طور پر محفوظ سرمایہ سمجھا جاتا ہے، جمعرات کو ابتدائی ٹریڈنگ میں 158.87 ین پر معمولی کمی کے ساتھ رہا، جو گزشتہ روز کے مقابلے میں کم ہے جب یہ آٹھ سیشنز میں پہلی بار گرا تھا۔ اس کمی کے بعد ڈالر 160 ین کی اس سطح سے مزید دور ہو گیا ہے جسے حکام کی ممکنہ مداخلت کی حد سمجھا جاتا ہے۔
بینک آف جاپان کی پالیسی بورڈ رکن جونکو کوئدا نے سخت موقف اپناتے ہوئے کہا کہ مرکزی بینک کو شرح سود میں اضافہ جاری رکھنا چاہیے کیونکہ بنیادی مہنگائی پہلے ہی 2 فیصد ہدف کے قریب ہے۔
یورو 1.1626 ڈالر پر مستحکم رہا، جبکہ گزشتہ سیشن میں یہ 7 اپریل کے بعد کم ترین سطح 1.1583 تک گرنے کے بعد بحال ہوا تھا۔
ڈالر انڈیکس، جو کرنسی کو یورو، ین اور دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں ماپتا ہے، 99.14 پر تقریباً مستحکم رہا، تاہم بدھ کو یہ 99.472 تک پہنچ گیا تھا جو 7 اپریل کے بعد بلند ترین سطح تھی۔
کامن ویلتھ بینک آف آسٹریلیا کے تجزیہ کار جوزف کیپورسو کے مطابق ایران جنگ سے متعلق مثبت خبروں کے باعث محفوظ سرمایہ کاری کی طلب کم ہوئی ہے۔
آسٹریلوی ڈالر 0.5 فیصد کمی کے بعد 0.7120 ڈالر پر آ گیا، جبکہ آسٹریلوی بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق بے روزگاری کی شرح 4.5 فیصد تک بڑھ گئی، جو توقعات سے زیادہ ہے۔
برطانوی پاؤنڈ معمولی تبدیلی کے ساتھ 1.3433 ڈالر پر رہا۔ دوسری جانب کرپٹو کرنسی بٹ کوائن معمولی اضافے کے ساتھ تقریباً 77,818 ڈالر پر ٹریڈ کرتی رہی۔