دنیا

بڑی تباہی ٹل گئی : متحدہ عرب امارات کے ایٹمی پلانٹ کے باہر ڈرون حملہ، آگ بھڑک اٹھی

  • اماراتی ایٹمی پلانٹ کے نزدیک ڈرون حملے سے لگی آگ بجھا دی گئی، تابکاری کا کوئی خطرہ نہیں، آپریشنز معمول کے مطابق بحال ہے، ابوظہبی میڈیا آفس
شائع اپ ڈیٹ

حکام کے مطابق اتوار کو اماراتِ ابوظہبی میں ایک نیوکلیئر پاور اسٹیشن کے قریب ڈرون حملے کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی، تاہم کسی جانی نقصان یا تابکاری کے اثرات کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔

ابوظہبی میڈیا آفس نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں بتایا کہ ابوظہبی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے الظفرہ ریجن میں واقع ’براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ‘ کی اندرونی حدود سے باہر ایک الیکٹریکل جنریٹر میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا ہے، یہ آگ ڈرون حملے کی وجہ سے لگی تھی۔بیان میں مزید کہا گیا کہ کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی اور نہ ہی ریڈیولاجیکل سیکیورٹی پر کوئی اثر پڑا ہے۔ تمام احتیاطی تدابیر اختیار کر لی گئی ہیں اور مزید تفصیلات جلد فراہم کی جائیں گی۔

ایٹمی قوانین کے وفاقی ادارے نے تصدیق کی ہے کہ آگ سے پاور پلانٹ کی سیکیورٹی یا اس کے اہم نظام کی تیاری پر کوئی اثر نہیں پڑا اور تمام یونٹس معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔

یہ ایٹمی پلانٹ 2020 میں فعال ہوا تھا جو یو اے ای کے دارالحکومت ابوظہبی سے 200 کلومیٹر مغرب میں سعودی عرب اور قطر کی سرحدوں کے قریب واقع ہے۔ سرکاری آپریٹر ایمریٹس نیوکلیئر انرجی کمپنی کے مطابق یہ پلانٹ ملک کی بجلی کی کل ضروریات کا چوتھائی حصہ (25 فیصد) فراہم کرتا ہے۔ متحدہ عرب امارات ایران کے بعد خطے میں اور عرب دنیا میں ایٹمی پاور اسٹیشن بنانے والا پہلا ملک ہے۔

بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ڈرون کہاں سے داغا گیا تھا، تاہم متحدہ عرب امارات نے حال ہی میں ایران پر اپنے توانائی اور معاشی انفرااسٹرکچر پر حملوں کے پیچھے ملوث ہونے کا الزام لگایا تھا۔

یاد رہے کہ رواں سال 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں، جس میں سینیئر قائدین ہلاک ہوئے تھے کے بعد تہران نے خطے بھر میں جوابی کارروائیاں شروع کر دی تھیں جس سے وسیع تر جنگ چھڑ گئی۔ ایران نے یو اے ای اور خلیج میں دیگر امریکی اتحادیوں پر الزام لگایا ہے کہ وہ امریکی افواج کو اپنی سرزمین سے حملے کرنے کی اجازت دے رہے ہیں، تاہم یو اے ای نے ان ایرانی رپورٹس کی سخت تردید کی ہے کہ اس نے خود کوئی فعال حملے کیے ہیں۔ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان 8 اپریل کو جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا لیکن امن مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور اکا دکا حملوں کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔