شی جن پنگ نے ٹرمپ کو خفیہ باغ کا نایاب دورہ کرایا
- ژونگ نان ہائی ایک سابق شاہی باغ ہے، جہاں اب حکمران کمیونسٹ پارٹی اور چینی اسٹیٹ کونسل، یعنی کابینہ کے دفاتر قائم ہیں
تجارت، تائیوان اور ایران سمیت مختلف امور پر مذاکرات کے بعد چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بیجنگ کے محفوظ سرکاری کمپاؤنڈ ژونگ نان ہائی میں موجود صدیوں پرانے درخت دکھائے، جہاں دونوں رہنما سربراہی ملاقات کے اختتامی لمحات میں چہل قدمی کرتے نظر آئے۔
ژونگ نان ہائی ایک سابق شاہی باغ ہے، جہاں اب حکمران کمیونسٹ پارٹی اور چینی اسٹیٹ کونسل، یعنی کابینہ کے دفاتر قائم ہیں۔ یہ کمپاؤنڈ بیجنگ کے تاریخی مقام فاربڈن سٹی اور تیانانمن اسکوائر کے قریب واقع ہے۔
ایک ہاٹ مائیک نے دونوں رہنماؤں کی گفتگو ریکارڈ کر لی، جس میں ٹرمپ نے حیرت کا اظہار کیا کہ بعض درخت ایک ہزار سال پرانے ہیں۔
شی جن پنگ نے مترجم کے ذریعے کہا کہ میں آپ کو بتاتا ہوں، اس طرف موجود تمام درخت 200 سے 300 سال پرانے ہیں۔ پھر انہوں نے بڑے درختوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ادھر کچھ درخت 400 سال سے بھی زیادہ پرانے ہیں۔
اس پر ٹرمپ نے حیرت سے پوچھا کہ کیا یہ اتنا عرصہ زندہ رہتے ہیں؟
شی جن پنگ نے جواب دیا کہ دیگر مقامات پر ایک ہزار سال پرانے درخت بھی موجود ہیں۔
بعدازاں ٹرمپ نے پوچھا کہ کیا دیگر غیر ملکی رہنماؤں کو بھی اس کمپاؤنڈ میں مدعو کیا جاتا ہے؟
شی جن پنگ نے جواب دیا، “بہت کم۔ ابتدا میں ہم یہاں سفارتی تقریبات نہیں کرتے تھے، اور اب بھی یہ انتہائی نایاب ہے۔ مثال کے طور پر ولادیمیر پیوٹن یہاں آ چکے ہیں۔
اس کے بعد شی جن پنگ نے ٹرمپ کو 280 سال پرانے درخت کو چھونے کی دعوت دی، جس پر ٹرمپ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ اچھا ہے، مجھے پسند آیا۔
یہ لمحہ عالمی رہنماؤں کے درمیان غیر رسمی تعلقات کی ایک نایاب جھلک ثابت ہوا۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال ستمبر میں بھی ایک ہاٹ مائیک نے شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی گفتگو ریکارڈ کی تھی، جس میں دونوں رہنما انسانی اعضا کی پیوندکاری اور انسان کی 150 سال عمر تک جینے کے امکانات پر گفتگو کر رہے تھے۔