چین کے صدر کی امریکہ کے ساتھ تعلقات میں 'نئی پوزیشننگ' کی تعریف
- ٹرمپ کا بیجنگ کا دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران جنگ وسط مدتی انتخابات سے قبل ملکی منظوری کی درجہ بندی کو کم کر رہی ہے
چین کے صدر شی جن پنگ نے جمعرات کو امریکہ کے ساتھ تعلقات کی ”نئی پوزیشننگ“ کا خیرمقدم کیا ہے، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنی سربراہی ملاقات کے بعد سامنے آئی، اور جس میں محتاط مسابقت کے ساتھ تعاون کے تصور کو شامل کیا گیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا بیجنگ دورہ، جو تقریباً ایک دہائی میں کسی امریکی صدر کا پہلا دورہ ہے، جمعہ تک جاری رہے گا۔ یہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ان کی ایران جنگ کے باعث داخلی مقبولیت کی شرح وسط مدتی انتخابات سے قبل متاثر ہو رہی ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق شی جن پنگ نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ “تعمیری، حکمتِ عملی کے اعتبار سے مستحکم تعلقات” آئندہ تین برسوں اور اس کے بعد بھی دوطرفہ تعلقات کی رہنمائی کریں گے۔
وزارت نے مزید کہا کہ شی جن پنگ نے ایسے تعلقات کو بنیادی طور پر تعاون پر مبنی قرار دیا، تاہم ”منظم مسابقت“ کے ساتھ، تاکہ اختلافات قابو میں رہیں اور ایسا دیرپا استحکام ممکن ہو جس میں امن کی توقع قائم رہ سکے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ ماڈل ایسا ہوگا جس میں اختلافات قابلِ انتظام ہوں گے اور طویل المدتی استحکام کے ذریعے امن کی توقع برقرار رکھی جا سکے گی۔
ماہرین کے مطابق ”تعمیری تزویراتی استحکام“ کی یہ اصطلاح اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ چین تعلقات کے لیے ایک درجہ بندی پر مبنی فریم ورک اپنا رہا ہے، جس کے ذریعے وہ امریکہ کے ساتھ کثیر الجہتی تعلقات کو منظم انداز میں آگے بڑھا سکتا ہے۔
یہ نیا چینی بیانیہ 1997 کے کلنٹن دور کی ”تعمیری اسٹریٹجک شراکت داری“ کی یاد دلاتا ہے، جو سرد جنگ کے بعد سب سے مثبت تصور سمجھا جاتا تھا، اور یہ چین کی اس خواہش کا اظہار ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ تعلقات کو زیادہ مستحکم بنیادوں پر استوار کیا جائے۔
بیجنگ نے 2000 اور 2010 کی دہائی کے اوائل میں واشنگٹن کے ساتھ تعلقات کو عمومی طور پر شراکت اور تعاون کے فریم ورک میں بیان کیا تھا۔
تاہم 2010 میں چین کے جاپان کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی دوسری بڑی معیشت بننے کے بعد بڑھتی ہوئی مسابقت، شی جن پنگ کے 2012 میں اقتدار سنبھالنے، اور 2016 کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے باعث تعلقات میں عدم استحکام، اسٹریٹجک مسابقت اور تنازعات سے بچاؤ کی زبان غالب آ گئی۔
بیجنگ کی رینمن یونیورسٹی کے پروفیسر وانگ وین نے کہا کہ یہ نیا فریم ورک ماضی کی ”منفی خصوصیات“، خصوصاً بڑی طاقتوں کی مسابقت سے ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔
وانگ نے کہا کہ ”بنیادی فرق اس بات میں ہے کہ اس میں باہمی تعامل کے ایک مثبت ماڈل پر زور دیا گیا ہے، جس کی بنیاد تعاون ہو، ساتھ ہی محتاط مسابقت، قابلِ انتظام اختلافات اور امن کے ایک قابلِ پیش گوئی امکان کو بھی شامل کیا گیا ہے،“
بیجنگ میں قائم کنسلٹنسی ٹریویم چائنا کے جیوپولیٹکس تجزیہ کار جو مزور نے کہا کہ ”یہ نئی زبان ہے اور میرے خیال میں یہ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ چین امریکا اور چین کے تعلقات کے لیے ایسے ادارہ جاتی حفاظتی اصول (institutional guardrails) قائم کرنا چاہتا ہے جو مسابقت اور تعاون دونوں کو منظم کر سکیں،“
شی جن پنگ نے جمعرات کو ڈونلڈ ٹرمپ کے اعزاز میں دیے گئے سرکاری عشائیے کے دوران کہا کہ چین اور امریکا کو ”حریفوں کے بجائے شراکت دار ہونا چاہیے،“
تاہم شنگھائی کی فودان یونیورسٹی کے بین الاقوامی تعلقات کے ماہر ژاؤ منگ ہاؤ نے کہا کہ ایران کے تنازع اور حالیہ امریکی پابندیوں جیسے معاملات، جو چینی کمپنیوں پر عائد کی گئی ہیں، امریکا اور چین کے تعلقات کو ”مزید پیچیدہ“ بنا رہے ہیں اور یہ نئے فریم ورک کی پائیداری کو بھی آزمائش میں ڈال سکتے ہیں۔
اگرچہ شی جن پنگ نے تعاون کو نمایاں کیا، تاہم انہوں نے تائیوان کے معاملے پر امریکہ پر ”انتہائی احتیاط“ پر زور دیا، جو ایک خود مختار جمہوری جزیرہ ہے جس پر چین دعویٰ کرتا ہے، جبکہ تائی پے اس دعوے کو مسترد کرتا ہے۔
چینی رہنما نے کہا: ”اگر اس مسئلے سے غلط طریقے سے نمٹا گیا تو دونوں ممالک ٹکرا سکتے ہیں یا حتیٰ کہ تصادم میں داخل ہو سکتے ہیں، جس سے چین اورامریکا کا سارا تعلق انتہائی خطرناک صورتحال سے دوچارہو سکتا ہے۔“