مارکٹس

سی سی آر آئی ملتان کی زمین جمخانہ کلب میں تبدیل کرنے کی تجویز، اپٹما کا حکومتِ پنجاب سے نظرثانی کا مطالبہ

  • کپاس کے اسٹریٹجک تحقیقی ادارے کی زمین کو کلب میں تبدیل کرنا زراعت اور ٹیکسٹائل کے شعبوں کو ایک منفی پیغام دے گا، ایسوسی ایشن
شائع اپ ڈیٹ

آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے پنجاب حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ سینٹرل کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سی سی آر آئی) ملتان کی زمین کو جمخانہ کلب میں تبدیل کرنے کی مبینہ تجویز پر نظرثانی کرے اور اس اقدام کو ملک کے مشکلات کے شکار کپاس کے شعبے کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔

وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے نام لکھے گئے ایک خط میں اپٹما نے زراعت، دیہی ترقی اور معاشی بحالی پر صوبائی حکومت کی مسلسل توجہ کو سراہا ہے، تاہم کپاس کی تحقیق کے اہم مرکز کے استعمال کو تبدیل کرنے کی مجوزہ تجویز پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ایسوسی ایشن نے نشاندہی کی کہ سی سی آر آئی ملتان پاکستان سینٹرل کاٹن کمیٹی کے تحت کام کرنے والے سب سے اہم قومی تحقیقی اداروں میں سے ایک ہے جسے ایک ایکٹ کے ذریعے قائم کیا گیا اور جس کی مالی معاونت ٹیکسٹائل انڈسٹری کی جانب سے ادا کیے جانے والے کاٹن سیس سے کی جاتی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ فنڈز خصوصی طور پر تحقیق، ترقی، جدت، بیجوں کی بہتری، کیڑوں کے انسداد اور کپاس کی معیشت کی بحالی کے لیے ہیں۔

صورتحال کی سنگینی کو اجاگر کرتے ہوئے اپٹما نے بیان کیا کہ حالیہ برسوں میں پاکستان میں کپاس کی پیداوار تقریباً 14 ملین گانٹھوں سے تیزی سے کم ہو کر تقریباً 5 ملین گانٹھوں تک رہ گئی ہے۔ اس کمی نے ملک کو سالانہ لاکھوں گانٹھیں درآمد کرنے پر مجبور کر دیا ہے جس سے زرِ مبادلہ ذخائر پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور معیشت، ٹیکسٹائل کی برآمدات اور دیہی روزگار بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

ایسوسی ایشن نے خبردار کیا کہ ایسے نازک موڑ پر کپاس کے ایک اسٹریٹجک تحقیقی ادارے کی زمین کو کلب میں تبدیل کرنا زراعت اور ٹیکسٹائل کے شعبوں کو ایک منفی پیغام دے گا اور پہلے سے دباؤ کا شکار تحقیقی کوششوں کو مزید کمزور کر دے گا۔

اپٹما نے ضروری فصلوں کے بارے میں کابینہ کمیٹی کے حالیہ فیصلے کا بھی حوالہ دیا جس کی صدارت نائب وزیراعظم نے کی تھی۔ اس کمیٹی نے پاکستان کاٹن بورڈ کے قیام کی منظوری دی ہے جس کا مقصد تحقیق کی مضبوطی، بہتر گورننس اور کاٹن سیس کے بہتر استعمال کے ذریعے اس شعبے کو بحال کرنا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026