کاروبار اور معیشت

پہلی ششماہی میں جی ڈی پی نمو 3.8 فیصد رہی، اسٹیٹ بینک

  • معیشت کی کیفیت پر ششماہی رپورٹ جاری، مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے خطرات سے خبردار کردیا
شائع اپ ڈیٹ

اسٹیٹ بینک نے پاکستان کی معیشت کی کیفیت پر مالی سال 26ء کی ششماہی رپورٹ جاری کردی،مالی سال 2025-26 کی پہلی ششماہی میں حقیقی جی ڈی پی نمو 3.8 فیصد رہی۔

رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ عالمی تجارتی غیر یقینی صورتحال اور ملکی سیلاب جیسے چیلنجز کے باوجود مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران پاکستان کے میکرو اکنامک استحکام میں مزید بہتری آئی ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میکرو اکنامک منظرنامے کیلئے بڑے خطرات کا سبب ہے جسے بے یقینی کی بلند سطح نے گھیرا ہوا ہے۔ اس کے باعث سپلائی چین میں آنے والا خلل مہنگائی، بیرونی تجارت اور ترسیلات کے بہاؤ پر اور اس کے نتیجے میں پاکستان میں اقتصادی سرگرمیوں پر اثر ڈال سکتا ہے۔

رپورٹ میں اجاگر کیا گیا ہے کہ مالی سال 26ء کی پہلی ششماہی کے دوران معاشی اظہاریوں میں خاصی بہتری آئی۔

اسٹیٹ بینک کے تخمینے کے مطابق مالی سال 26ء کی حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو 3.75 تا 4.75 فیصد کے سابقہ تخمینے کی نچلے سطح کے قریب رہنے کی توقع ہے۔

معاشی سرگرمیوں میں تحرک اور اجناس کی بلند قیمتوں کے باوجود، اب جاری کھاتے کا خسارہ جی ڈی پی کے صفر تا ایک فیصد کے سابقہ تخمینے کی نچلی سطح کے قریب رہنے کی توقع ہے۔

تاہم تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں اضافے اور دیگر اجناس کی قیمتوں پر اس کے اثرات کے باعث قومی مہنگائی بلحاظِ صارف اشاریہ قیمت مالی سال 27ء کے بیشتر عرصے میں 5 تا 7 فیصد کے وسط مدتی ہدف کی بالائی حد سے اوپر رہنے کی توقع ہے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال 26 کی چوتھی سہ ماہی میں ورکرز ریمیٹنسز (ترسیلاتِ زر) بھی متاثر ہو سکتی ہیں، اس بات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کہ مالی سال 21 سے مالی سال 25 کے درمیان کل ترسیلاتِ زر میں خلیجی تعاون کونسل کے ممالک کا حصہ تقریباً 55 فیصد رہا ہے۔

تاہم مالی سال 26 میں ترسیلاتِ زر کے مضبوط رہنے کی توقع ہے، جس سے تجارتی خسارے میں ہونے والے اضافے کو جزوی طور پر پورا کرنے میں مدد ملے گی۔

مرکزی بینک کی رپورٹ میں نوٹ کیا گیا کہ مالی سال 26 کی پہلی ششماہی میں معاشی اشاریوں میں نمایاں بہتری آئی۔ اوسط نیشنل سی پی آئی افراطِ زر کی شرح میں مزید کمی واقع ہوئی جبکہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے غیر ملکی زرِ مبادلہ کی خریداری اور خالص مالیاتی آمد نے بیرونی ذخائر کو استحکام فراہم کیا۔

ان نتائج کو محتاط مانیٹری اور مالیاتی پالیسیوں، جاری ساختی اصلاحات، اشیاء کی سازگار قیمتوں اور آئی ایم ایف پروگرام سے تقویت ملی۔ خاص طور پر، اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کے حوالے سے محتاط رویہ برقرار رکھا اور مستقبل کے تناظر میں حقیقی شرحِ سود کو مناسب حد تک مثبت رکھا جبکہ مالی سال 26 کی پہلی ششماہی میں مالیاتی توازن سرپلس رہا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ میکرو اکنامک استحکام نے بدلے میں ترقی کی رفتار کو سہل بنایا۔

اسٹیٹ بینک نے نوٹ کیا کہ توانائی کی قیمتوں میں اچانک اضافے اور انشورنس و فریٹ چارجز میں اضافے کی وجہ سے پاکستان کے درآمدی بل اور مال برداری کی خدمات کی ادائیگیوں میں بھی اضافے کا خدشہ ہے۔

تاہم توانائی کے تحفظ کے اقدامات کے نفاذ کے ساتھ ساتھ تیل کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ مقامی صارفین تک منتقل کرنے کے حکومتی فیصلے سے مقامی طلب کو قابو میں رکھنے اور یوں توانائی کے درآمدی حجم کو کم کرنے میں مدد ملنے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ایل این جی کی درآمدات میں کمی سے توانائی کی مجموعی درآمدات مزید کم ہو سکتی ہیں۔

دوسری جانب عالمی معاشی نمو میں ممکنہ سست روی، چاول کی قیمتوں کے کئی سالوں کی کم ترین سطح پر ہونے، پاکستان کی مغربی سرحد کی بندش اور ٹیرف میں جاری ردوبدل کی وجہ سے عالمی تجارتی بہاؤ میں تبدیلی کے باعث برآمدات کے کمزور رہنے کی توقع ہے۔

اسٹیٹ بینک نے انکشاف کیا کہ مالی سال 26 کی پہلی ششماہی میں حقیقی جی ڈی پی گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں دوگنی رفتار، یعنی 3.8 فیصد سے بڑھی جس کی بنیادی وجہ صنعتی سرگرمیوں میں تیزی تھی، جس کے بعد بالترتیب سروسز اور زراعت کے شعبے رہے۔

مرکزی بینک نے نوٹ کیا کہ معاشی سرگرمیوں میں اس تیزی کے نتیجے میں مالی سال 26 کی پہلی ششماہی میں درآمدات کے حجم میں بھی اضافہ ہوا۔

اسی دوران چاول کی برآمدات میں نمایاں کمی کے باعث برآمدی آمدن میں گراوٹ دیکھی گئی۔ اس کے باوجود ترسیلاتِ زر میں مسلسل اضافے نے تجارت، سروسز اور پرائمری انکم بیلنس کے خسارے کے بڑے حصے کو پورا کرنے کا سلسلہ جاری رکھا جس سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو معتدل سطح پر رکھنے میں مدد ملی۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ پالیسیوں کے مسلسل محتاط اشتراک، بیرونی کھاتوں کی بہتر صورتحال، شرحِ مبادلہ میں استحکام، عالمی سطح پر اشیاء کی قیمتوں میں نرمی اور بجلی کے مقررہ نرخوں میں کمی کے باعث مالی سال 26 کی پہلی ششماہی کے دوران مہنگائی میں اعتدال آیا۔

رپورٹ کے مطابق این سی پی آئی افراطِ زر مالی سال 26 کی پہلی ششماہی میں اوسطاً 5.2 فیصد رہی جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً 2 فیصد پوائنٹس کم ہے۔

رپورٹ میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ سود کی ادائیگیوں میں خاطر خواہ کمی اور مالیاتی استحکام کے اقدامات کی بدولت مالی سال 26 کی پہلی ششماہی میں مالیاتی توازن سرپلس میں تبدیل ہو گیا۔ یہ مالی سال 2002 کے بعد پہلی بار ہوا ہے جبکہ پرائمری سرپلس گزشتہ سال کی سطح پر برقرار رہا۔

اسٹیٹ بینک نے کہا کہ ملک کو پائیدار اور اعلیٰ ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے گہری معاشی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ بینک نے اس بات پر زور دیا کہ ان اصلاحات میں خاص طور پر دیرینہ مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے جن میں بچت اور سرمایہ کاری کی کمی، کمزور مسابقت، گرتی ہوئی برآمدات، براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی اور جی ڈی پی کے مقابلے میں ٹیکس کی شرح کا مسلسل کم ہونا شامل ہیں۔