ایس آئی ایف سی کی معاونت سے جیٹ گرین ایئرلائن کے آغاز کی راہ ہموار
- 30 ملین ڈالر کے ایئرلائن منصوبے کے جلد عملی اور فعال ہونے کی راہ ہموار ہو گئی
پاکستان کا ہوا بازی (ایوی ایشن) کا شعبہ دوبارہ بحالی اور نئی رفتار کی جانب گامزن ہے، کیونکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) نے دہائی سے زیر التوا منظوریوں کے عمل کو تیز کرتے ہوئے ایم/ایس جیٹ گرین پرائیویٹ لمیٹڈ کے لیے پیش رفت یقینی بنا دی ہے۔ اس 30 ملین ڈالر کے ایئرلائن منصوبے کے جلد عملی اور فعال ہونے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
ایس آئی ایف سی کے بیان کے مطابق، ہدفی مداخلت کے ذریعے کونسل نے مختلف متعلقہ اداروں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرتے ہوئے اس تعطل کو ختم کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ کونسل نے لائسنسنگ، حفاظتی جانچ (سیفٹی ویٹنگ)، کمرشل پرمٹس اور ایئرلائن سرٹیفکیشن سمیت تمام مراحل کی مرحلہ وار منظوری میں سہولت فراہم کی، جس سے ریگولیٹری تقاضوں کی تکمیل کے ساتھ ساتھ انتظامی تاخیر میں نمایاں کمی آئی۔
تمام بڑی منظوریوں کے حصول کے بعد جیٹ گرین اب فائل اسٹیج سے نکل کر عملی تیاری کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جس سے پاکستان کی ہوا بازی کی مارکیٹ میں ایک نئی نجی ایئرلائن کے داخلے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
اس پیش رفت سے توقع کی جا رہی ہے کہ شعبے میں مقابلہ بڑھے گا، سروس کے معیار میں بہتری آئے گی اور ہوا بازی سمیت اس سے منسلک شعبوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
یہ سنگ میل ایس آئی ایف سی کے اس فعال کردار کو ظاہر کرتا ہے جس کے ذریعے وہ تعطل کا شکار سرمایہ کاری کو بحال کرنے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرنے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔ اس سے یہ واضح پیغام بھی جاتا ہے کہ پاکستان کاروباری ترقی، تیز تر فیصلہ سازی اور معیشت کے اہم شعبوں کی جدید کاری کے لیے پرعزم ہے۔
سہولت کاری کے اس عمل میں متعدد ریگولیٹری تقاضے شامل تھے جن میں ایوی ایشن لائسنسنگ، حفاظتی منظوری، کمرشل آپریٹنگ اجازت نامے اور ایئرلائن سرٹیفکیشن شامل ہیں۔
حکام کے مطابق مربوط حکمت عملی کے ذریعے قومی ہوا بازی کے معیار پر عمل درآمد کو یقینی بنایا گیا جبکہ پراسیسنگ کے وقت میں نمایاں کمی بھی لائی گئی۔
تمام بڑی منظوریوں کے بعد جیٹ گرین اب دستاویزی مرحلے سے نکل کر عملی تیاری کے مرحلے میں پہنچ چکی ہے، جس سے پاکستان کی ہوا بازی کی مارکیٹ میں ایک نئی نجی ایئرلائن کے داخلے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
اس پیش رفت سے شعبے میں مسابقت مضبوط ہونے، مسافروں کو بہتر سہولیات ملنے اور ہوا بازی و اس سے متعلقہ صنعتوں میں روزگار کے مواقع بڑھنے کی توقع ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026