کاروبار اور معیشت

کاروباری طبقہ پٹرول مہنگا ہونے پر پریشان، حکومت سے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ

  • تاجر برادری ریلیف کی منتظر تھی، حکومت نے کمرتوڑ دی، ثاقب مگوں، محمد تحسین
شائع اپ ڈیٹ

کاروباری برادری نے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے اسے صنعتی شعبے اور ملکی معیشت کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ تاجر برادری ریلیف کی منتظر تھی، لیکن قیمتوں میں اضافے نے پیداواری لاگت کو خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے، جس سے برآمدات اور صنعتوں کا وجود خطرے میں پڑ گیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسوں کی پالیسی پر فوری نظرثانی کی جائے۔

دوسری جانب ایف بی ایریا ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (فباٹی) کے صدر شیخ محمد تحسین نے کہا کہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ کر کے صنعتوں کی کمر توڑ دی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں قیمتیں کہیں زیادہ ہیں۔ آئی ایم ایف معاہدے کے تحت لگائے گئے بھاری لیوی نے مقامی صنعتوں کو تباہ کر دیا ہے، جس سے ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 40 فیصد تک اضافہ ہوا اور مہنگائی 22 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے آئی ایم ایف سے اس معاملے پر دوبارہ بات نہ کی تو فیکٹریاں بند اور برآمدات مزید کم ہو جائیں گی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر2026