کاروبار اور معیشت

حکومت کا بجٹ سے قبل ایکسپورٹ ریبیٹ فریم ورک کا جائزہ

  • وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد چیمہ کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطح اجلاس
شائع اپ ڈیٹ

حکومت نے آئندہ وفاقی بجٹ سے قبل ایکسپورٹ ریبیٹ فریم ورک کا جائزہ لیا ہے جس میں برآمدات میں اضافے اور مقررہ اہداف سے منسلک ریبیٹس اور مراعاتی طریقہ کار شامل ہیں۔

اقتصادی امور ڈویژن کی جانب سے ہفتہ کو جاری اعلامیہ کے مطابق وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد چیمہ کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطح اجلاس منعقد ہوا جس میں آئندہ وفاقی بجٹ کے لیے برآمدات کے فروغ کی اسکیموں اور پالیسی آپشنز کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کا بنیادی مقصد مؤثر اور ٹارگٹڈ مراعات کے ذریعے پاکستان کی برآمدات کو مضبوط بنانا اور ترجیحی شعبوں کی معاونت کرنا تھا۔

اجلاس میں وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال، چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال اور سیکرٹری تجارت جواد پال نے شرکت کی۔

بین الاقوامی ماہرین ڈاکٹر اعجاز نبی اور اسٹیفن ڈیرکن نے بھی اجلاس میں شرکت کی اور برآمدی مسابقت اور اقتصادی پالیسی اصلاحات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اجلاس کے دوران شرکا نے وفاقی وزیر کو آئندہ بجٹ کے لیے زیرِ غور برآمدی پالیسی کی تجاویز پر بریفنگ دی۔

اجلاس میں ترجیحی برآمدی شعبوں اور برآمدات میں اضافے، مسابقت میں بہتری، برآمدات میں چھوٹےودرمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کی شرکت بڑھانےاور عالمی منڈیوں میں پاکستان کی موجودگی کو وسعت دینے کیلئے موزوں پالیسی اقدامات کی تشکیل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس کے دوران مالیاتی تعاون، تجارتی سہولیات اور مخصوص شعبوں کے لیے مراعات سے متعلق مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔

وفاقی وزیر نے پائیدار اور کارکردگی پر مبنی برآمدی ترغیبی فریم ورک کو اپنانے کی اہمیت پر زور دیا جو برآمدات کے حجم میں اضافے، ویلیو ایڈیشن ، برآمدی مصنوعات کے تنوع اور عالمی ویلیو چینز میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی مضبوط شمولیت کو فروغ دے سکے۔

شرکا نے مشاہدہ کیا کہ برآمدات بڑھانے کے لیے صرف ٹیکسوں میں کمی نہیں بلکہ پیداواری عوامل میں بہتری، انفرااسٹرکچر، سہولت کاری کے اقدامات اور کاروبار میں آسانی بھی کلیدی کردار ادا کریں گے۔

وفاقی وزیرنے ایک پائیدار اور کارکردگی پر مبنی برآمدی ترغیباتی فریم ورک اپنانے کی اہمیت پر زور دیا، جو زیادہ برآمدی حجم، ویلیو ایڈیشن ، برآمدی مصنوعات میں تنوع اور عالمی سپلائی چینز میں ایس ایم ایز کے مضبوط انضمام کو فروغ دے سکے۔

اجلاس میں برآمدی مراعات کے حوالے سے مختلف آپشنز کا بھی جائزہ لیا گیا، جن میں کارکردگی پر مبنی ریبیٹس، برآمدات میں بتدریج اضافے سے منسلک مراعات اور برآمدی اہداف کے حصول پر انعامی طریقہ کار کا تعارف شامل ہے۔

شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ شفافیت، کارکردگی اور طویل مدتی اقتصادی فوائد کو یقینی بنانے کے لیے ترغیباتی سکیموں کو پیمائش کے قابل نتائج سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔

وفاقی بجٹ کو حتمی شکل دینے سے قبل متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے مجوزہ اقدامات کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔

حکومت عملی، شفاف اور دور اندیش پالیسی اقدامات کے ذریعے برآمد کنندگان کی مدد اور برآمدی بنیاد پر مبنی اقتصادی ترقی کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔