پاکستان

ٹرمینل آپریٹرز کو پورٹ قاسم اور انرجی سٹی میں سرمایہ کاری کی دعوت

  • وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انور چوہدری سے ایف اے پی ٹرمینل کے سی ای او ایقان علی خان کی سربراہی میں چھ رکنی وفد کی ملاقات
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے جمعہ کو ٹرمینل آپریٹرز کو انرجی سٹی میں کنسورشیم بنا کر سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دی جب کہ انہیں پورٹ قاسم پر ملٹی پرپز ٹرمینل کے قیام کیلئے شرکت کا طریقہ کار وضع کرنے اور اپنا حصہ ڈالنے کی ترغیب بھی دی۔

ایک بیان کے مطابق وفاقی وزیر نے یہ دعوت ایف اے پی ٹرمینل کے سی ای او ایقان علی خان کی سربراہی میں معروف ٹرمینل آپریٹرز کے چھ رکنی وفد سے اپنے دفتر میں ملاقات کے دوران دی۔

ملاقات کے دوران وفاقی وزیر نے وفد کو یقین دلایا کہ حکومت ان کے کاروبار کے استحکام اور ترقی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔

بیان کے مطابق وفد نے وفاقی وزیر پر زور دیا کہ وہ ٹیکسوں کو سنگل ڈیجٹ تک لانے اور پورٹ سروسز کو ٹیلی کمیونیکیشن کی طرح صنعت کا درجہ دلوانے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ ریگولیٹری اور سرمایہ کاری کے لیے زیادہ سازگار ماحول پیدا ہو سکے۔

دریں اثنا وفاقی وزیر نے بحری شعبے کی مضبوطی کے لیے پالیسیوں کے تسلسل اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی اہمیت کو تسلیم کیا اور ساختی مسائل کو حل کرنے اور بندرگاہوں پر کاروباری سرگرمیوں کو آسان بنانے کے لیے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔

مزید برآں جنید انور چوہدری نے انرجی سٹی پراجیکٹ کے منصوبوں کا بھی ذکر کیا جس میں توانائی کی مختلف اقسام کے لیے بانڈڈ اسٹوریج (محفوظ گوداموں) کی سہولیات میسر ہوں گی۔

بیان کے مطابق وفاقی وزیر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ توانائی کے ذخائر اور متعلقہ انفرااسٹرکچر کی فزیبلٹی اور موزوں ہونے کی بنیاد پر مختلف ممکنہ مقامات کی نشاندہی کی جائے گی۔

ملاقات کے دوران انہوں نے بندرگاہ پر رش کم کرنے کے لیے کراچی پورٹ ٹرسٹ کی حدود سے دہائیوں پرانے کنٹینرز اور پیلیٹس کو ہٹانے کا بھی ذکر کیا جن میں سے کچھ 50 سال پرانے تھے۔

انہوں نے اس صفائی کو بندرگاہ کی کارکردگی بڑھانے اور کارگو ہینڈلنگ کو ہموار بنانے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ قرار دیا۔

پریس ریلیز کے مطابق ملاقات کا اختتام وزارت اور نجی اسٹیک ہولڈرز کے درمیان قریبی کوآرڈینیشن برقرار رکھنے کے عزم کے ساتھ ہوا جس کا مقصد بحری شعبے کی مکمل صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا اور بلیو اکانومی کے اقدامات میں تیزی لانا ہے۔