ٹرمپ کے ایران کے ساتھ امن معاہدے کے اشارے، عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں گرگئیں
- برینٹ کروڈ کے سودے 10.07 ڈالر یا 9.2 فیصد کمی کے ساتھ 99.80 ڈالر فی بیرل پر آگئے
امریکہ اور ایران کے درمیان ابتدائی امن معاہدے کے قریب پہنچنے کی تازہ ترین خبروں کے بعد بدھ کو مسلسل دوسرے روز عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں شدید گراوٹ دیکھی گئی۔ پاکستانی ذرائع کی جانب سے دونوں ممالک کے درمیان ایک جامع مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر اتفاق کے دعوے نے قیمتوں کو دو ہفتوں کی کم ترین سطح پر دھکیل دیا ہے۔
برینٹ کروڈ کے سودے 10.07 ڈالر (9.2 فیصد) کی بھاری کمی کے ساتھ 99.80 ڈالر فی بیرل پر آگئے، جو 22 اپریل کے بعد پہلی بار 100 ڈالر کی نفسیاتی حد سے نیچے گرے ہیں۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کے سودے بھی 10.79 ڈالر (10.6 فیصد) گر کر 91.48 ڈالر کی سطح پر آگئے، جبکہ گزشتہ سیشن میں بھی ان قیمتوں میں تقریباً 4 فیصد کمی دیکھی گئی تھی۔
تازہ ترین صورتحال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے ایران کے ساتھ معاہدے کی پیش رفت کے پیشِ نظر آبنائے ہرمز میں فوجی آپریشن ’پروجیکٹ فریڈم‘ کو عارضی طور پر روکنے کا اشارہ دیا تھا۔ امریکی میڈیا آؤٹ لیٹ ’ایکسِیوس‘ کے مطابق واشنگٹن کو اگلے 48 گھنٹوں میں اہم نکات پر تہران سے جواب کی توقع ہے اور اسے جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک کی سب سے بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ایل ایس ای جی کی سینیئر ریسرچ سپیشلسٹ این فام کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال کشیدگی میں کمی کا اشارہ ہے اور اس سے خلیج میں پھنسے ہوئے بحری جہازوں کی روانگی اور مارکیٹ میں تیل کی سپلائی بتدریج بحال ہونے کی امیدیں بڑھ گئی ہیں۔ تاہم صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ جب تک معاہدہ حتمی نہیں ہوتا ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی سختی سے جاری رہے گی۔ اس سے قبل پیر کو امریکی فوج نے بتایا تھا کہ خلیج سے بحری جہازوں کو نکالنے کے دوران انہوں نے ایران کی متعدد چھوٹی کشتیاں، کروز میزائل اور ڈرونز تباہ کردیے تھے۔
دوسری جانب مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ میں خام تیل کے ذخائر میں مسلسل تیسرے ہفتے کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ یکم مئی کو ختم ہونے والے ہفتے میں خام تیل کے ذخائر میں 8.1 ملین بیرل جب کہ پیٹرول کے ذخائر میں 6.1 ملین بیرل کی کمی ہوئی، جس کی بنیادی وجہ فروری سے جاری بحری ترسیل میں تعطل ہے۔ عالمی مارکیٹ اب امریکی محکمہ توانائی (ای آئی اے) کے سرکاری اعداد و شمار اور اگلے 48 گھنٹوں میں ایران کے ممکنہ جواب کی منتظر ہے، جو قیمتوں کے مستقبل کا تعین کریں گے۔