دنیا

فضائی حدود کی بحالی کے بعد دبئی ایئرپورٹس آپریشنز میں تیزی

  • ایران جنگ کے آغاز پر 28 فروری کو احتیاطی تدابیر کے طور پر عائد کی گئی پابندیاں ختم ہونے کے بعد فضائی ٹریفک معمول پر آ گیا ہے،ایوی ایشن اتھارٹی
شائع May 4, 2026 اپ ڈیٹ May 4, 2026 03:31pm

متحدہ عرب امارات کی فضائی حدود مکمل طور پر کھلنے کے بعد دبئی ایئرپورٹس کی آپریشنل سرگرمیاں اور پروازیں دوبارہ تیزی سے بحال کی جا رہی ہیں، اور دستیاب روٹس کے مطابق گنجائش میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ یہ بات دبئی ایئرپورٹس کے سی ای او پال گریفتھس نے پیر کے روز کہی۔

یو اے ای کی ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق ایران جنگ کے آغاز پر 28 فروری کو احتیاطی تدابیر کے طور پر عائد کی گئی پابندیاں ختم ہونے کے بعد فضائی ٹریفک معمول پر آ گیا ہے۔

جنگی صورتحال کے باوجود دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور المکتوم انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے 60 لاکھ سے زائد مسافروں کو ہینڈل کیا، جبکہ 32,000 سے زیادہ پروازوں کی آمد و رفت اور 213,000 میٹرک ٹن سے زائد کارگو منتقل کیا گیا۔ پال گریفتھس کے مطابق دبئی کے ذریعے سفر کی طلب اب بھی مضبوط ہے۔

دنیا کے مصروف ترین بین الاقوامی ہوائی اڈے دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے 2026 کی پہلی سہ ماہی میں 18.6 ملین مسافروں کو سنبھالا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 23.4 ملین تھا۔

انہوں نے کہا کہ دبئی کے ذریعے سفر کی طلب برقرار ہے اور ایئرپورٹ بتدریج اپنی گنجائش بڑھانے کے لیے موزوں پوزیشن میں ہے تاکہ ایئر لائنز اور مسافروں کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔

یاد رہے کہ جنگ سے قبل اندازہ لگایا گیا تھا کہ رواں سال تقریباً 100 ملین مسافر دبئی ایئرپورٹ سے سفر کریں گے، تاہم فضائی حدود کی بندش سے یہ ہدف متاثر ہوا۔