ایشیائی بینک نے اہم معدنیات کی سپلائی چینز پر نئی فنانسنگ فیسلیٹی متعارف کرادی
- یہ فیسلیٹی ایشیا اور بحرالکاہل کے ممالک کے لیے
ایشین ڈیولپمنٹ بینک (اے ڈی بی) نے اتوار کے روز ایشیا اور بحرالکاہل کے ممالک کے لیے ایک نئی مالی معاونت کی سہولت (فنانسنگ فیسلیٹی) متعارف کرائی ہے، جس کا مقصد اہم معدنیات کی سپلائی چینز کو مضبوط بنانا ہے، جو صاف توانائی، بیٹریز، الیکٹرک گاڑیوں اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
اے ڈی بی کے صدر ماساتو کانڈا نے 59ویں سالانہ اجلاس میں کہا کہ اہم معدنیات آنے والے صنعتی دور کی بنیاد ہوں گی۔ ان کے مطابق ایشیا اور بحرالکاہل کو صرف خام مال فراہم کرنے والا خطہ نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے ان معدنیات سے پیدا ہونے والی ٹیکنالوجی، روزگار اور قدر میں بھی حصہ لینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ یہ فیسلیٹی فوری اقدامات اور انصاف پر مبنی ہے، تاکہ ترقی پذیر ممالک مضبوط سپلائی چینز بنا کر جدید صنعتوں میں مقابلہ کر سکیں اور مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔
یہ فیسلیٹی دو حصوں پر مشتمل ہے: ایک گرانٹ ونڈو اور ایک کیٹیلسٹک فنانس ونڈو۔ گرانٹ ونڈو ابتدائی منصوبوں کے لیے استعمال ہوگی، جس میں فزیبلٹی اسٹڈیز، ماحولیاتی و سماجی جائزے اور تکنیکی معاونت شامل ہے۔ اس حصے کے لیے جاپان نے 20 ملین ڈالر اور برطانیہ نے 1.6 ملین ڈالر دینے کا اعلان کیا ہے۔
دوسری جانب کیٹیلسٹک فنانس ونڈو نجی سرمایہ کاری اور دیگر مالی اداروں سے شراکت کو فروغ دے گی۔ جنوبی کوریا کی کے-ایگزم بینک اور کے-شور نے اس فیسلیٹی کے تحت 500-500 ملین ڈالر کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔
اے ڈی بی پہلے ہی بھارت، منگولیا، ازبکستان، قازقستان اور فلپائن میں اہم معدنیات کے منصوبوں کی حمایت کر رہا ہے، جن میں بیٹری سازی، ری سائیکلنگ، اور ڈیجیٹل نقشہ سازی شامل ہیں۔
بینک کا کہنا ہے کہ تمام منصوبے سخت ماحولیاتی اور سماجی معیار کے مطابق ہوں گے، تاکہ پائیدار ترقی، صاف توانائی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026