مارکٹس

اوپیک پلس نے یو اے ای کے بغیر تیل کی پیداوار میں معمولی اضافے پر اصولی اتفاق کر لیا، ذرائع

  • امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے باعث آبنائے ہرمز میں ترسیل معطل، اوپیک پلس کا پیداواری اضافہ فی الحال علامتی قرار
شائع اپ ڈیٹ

اوپیک پلس کے سات رکن ممالک جون میں یومیہ تقریباً ایک لاکھ 88 ہزار بیرل تیل کی پیداوار بڑھانے کے ہدف پر اصولی طور پر متفق ہو گئے ہیں، یہ بات اوپیک پلس کی پالیسی میٹنگ سے قبل ذرائع نے بتائی۔ متحدہ عرب امارات کے الگ ہونے کے باوجود گروپ اپنے منصوبوں پر آگے بڑھنے کا عندیہ دے رہا ہے۔

تاہم فی الحال یہ اضافہ زیادہ تر علامتی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل بڑی حد تک معطل ہے، جو اوپیک پلس کے طے شدہ اہداف کے مقابلے میں پیداوار پر کہیں زیادہ اثر انداز ہو رہی ہے۔

یہ اضافہ گزشتہ ماہ کے تقریباً 2 لاکھ 6 ہزار بیرل یومیہ اضافے کے قریب ہے، تاہم اس میں متحدہ عرب امارات کا حصہ شامل نہیں، جس نے اس ہفتے غیر متوقع طور پر اعلان کیا تھا کہ وہ یکم مئی سے گروپ چھوڑ رہا ہے۔ ایک ذریعے کے مطابق یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ اوپیک پلس معمول کے مطابق پالیسی جاری رکھنے کے موڈ میں ہے۔

ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کی۔ یہ ساتوں ممالک اتوار کو آن لائن اجلاس میں شریک ہوں گے۔

28 فروری کو ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ اور اس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کی بندش نے اوپیک پلس کے رکن ممالک سعودی عرب، عراق، کویت اور متحدہ عرب امارات کی برآمدات کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ تنازع سے قبل یہی ممالک گروپ میں وہ واحد پروڈیوسرز تھے جو پیداوار بڑھانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔

اوپیک کا رکن ہونے کے باوجود ایران، جو اتوار کے اجلاس میں شامل سات ممالک میں نہیں، اپریل میں امریکا کی جانب سے عائد پابندیوں کے باعث اپنی برآمدات میں نمایاں کمی کا سامنا کر رہا ہے۔

اوپیک کی گزشتہ ماہ جاری رپورٹ کے مطابق مارچ میں اوپیک پلس کی مجموعی خام تیل پیداوار 3 کروڑ 50 لاکھ 60 ہزار بیرل یومیہ رہی، جو فروری کے مقابلے میں 77 لاکھ بیرل یومیہ کم ہے۔ برآمدات میں رکاوٹوں کے باعث عراق اور سعودی عرب نے سب سے زیادہ کمی کی۔ خلیج سے باہر روس نے بھی یوکرینی ڈرون حملوں سے انفرااسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان کے بعد پیداوار کم کی ہے۔

اتوار کے اجلاس میں شریک سات ممالک میں سعودی عرب، عراق، کویت، الجزائر، قازقستان، روس اور عمان شامل ہیں۔ متحدہ عرب امارات کی علیحدگی کے بعد اوپیک پلس کے ارکان کی مجموعی تعداد 21 رہ گئی ہے، جن میں ایران بھی شامل ہے، تاہم حالیہ برسوں میں ماہانہ پیداوار کے فیصلوں میں انہی سات ممالک کے ساتھ یو اے ای کلیدی کردار ادا کرتا رہا ہے۔