سعودی عرب نے 15 سال سے کم عمر بچوں کے حج پر پابندی واپس لے لی
- 12 سال اور اس سے زائد عمر کے بچوں کو دوبارہ حج کی اجازت دے دی گئی
سعودی عرب نے حج کے حوالے سے اپنی سابقہ پابندی واپس لے لی ہے جس کے تحت 15 سال سے کم عمر افراد کو حج کی ادائیگی سے روکا گیا تھا، پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی ( پی اے اے) کے مطابق اس فیصلے کے بعد 12 سال اور اس سے زائد عمر کے بچوں کو ایک بار پھر حج کی اجازت دے دی گئی ہے، اور اس اقدام کو پرانی پالیسی کی بحالی قرار دیا جا رہا ہے۔
پی اے اے کے مطابق وہ ویزے جو 15 سال کی عمر کی پابندی کے باعث مسترد کیے گئے تھے، اب دوبارہ پروسیس کیے جائیں گے۔
اس سے قبل پاکستان نے ایئرپورٹ حکام اور ایئرلائنز کو ہدایت دی تھی کہ وہ سعودی عرب کی جانب سے عائد کم از کم عمر کی شرط پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔
یاد رہے کہ سعودی عرب نے حج کے لیے فوری طور پر عمر کی پابندی عائد کی تھی، جس کے تحت 27 مئی 2026 (9 ذوالحجہ 1447 ہجری، یومِ عرفہ) تک 15 سال سے کم عمر کسی بھی عازم کو حج کے لیے سعودی عرب جانے کی اجازت نہیں تھی۔
قبل ازیں پاکستانی ہوائی اڈوں پر تمام متعلقہ اداروں، بشمول امیگریشن، کو سختی سے ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اس شرط پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں۔ 15 سال سے کم عمر کسی بھی عازمِ حج کو حج فلائٹس میں سوار ہونے کی اجازت نہیں ہوگی، اور اس پالیسی کے تحت ایسے ویزوں کو منسوخ تصور کیا جائے گا۔
اس وقت سعودی حکام کی جانب سے مزید بتایا گیا تھا کہ متاثرہ عازمین حج اپنا سفر منسوخ کرنے کا انتخاب کر سکتے ہیں اور انہیں جمع کرائی گئی تمام رقم کی مکمل واپسی کا حق حاصل ہوگا۔
حکومتی اسکیم کے تحت پاکستان سے مجموعی طور پر ایک لاکھ 19 ہزار عازمین کو مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ روانہ کیا جائے گا۔ ان میں 67 ہزار 230 مرد اور 51 ہزار 846 خواتین شامل ہوں گی۔
فلائٹ آپریشن کے مطابق اسلام آباد سے 129، کراچی سے 124 اور لاہور سے 104 پروازیں روانہ ہوں گی۔ کوئٹہ سے 18، ملتان سے 34 اور سیالکوٹ سے 26 پروازیں آپریٹ کی جائیں گی، جبکہ فیصل آباد سے 23 اور سکھر سے 5 پروازیں عازمینِ حج کو سعودی عرب لے جائیں گی۔