ہاؤسنگ فنانس: اسٹیٹ بینک کی بینکوں کو 3 ہفتوں میں قرض منظور کرنے کی ہدایت
- ایسی جائیدادیں جن کی مارکیٹ مالیت 50 لاکھ روپے تک ہوان کی جانچ کے لیے بینک یا ایچ بی ایف سی ایل اپنے اندرونی ذرائع استعمال کرسکتے ہیں
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے وزیراعظم اپنا گھر پروگرام گھر ہو تو اپنا ہاؤسنگ فنانس پروگرام پر عملدرآمد تیز کرنے کیلئے نئی سہولیاتی اقدامات متعارف کرائے ہیں جن میں قرض دینے کی شرائط میں نرمی اور پراسیسنگ کے وقت میں کمی کی گئی ہے تاکہ گھر کے خواہش مند افراد کیلئے رسائی کو بہتر بنایا جاسکے۔
جاری کردہ سرکلر کے مطابق بینکوں اور ہاؤس بلڈنگ فنانس کمپنی لمیٹڈ (ایچ بی ایف سی ایل) کو قرض لینے والوں کی اہلیت جانچنے اور درخواستوں پر کارروائی (پراسیسنگ) کرنے کے حوالے سے مزید لچک کی اجازت دے دی گئی ہے۔
نظرثانی شدہ فریم ورک کے تحت ماہانہ اقساط کی کل ادائیگی، بشمول زیرِ غور ہاؤسنگ فنانس اور دیگر تمام کنزیومر فنانسنگ (صارفین کے لیے قرضہ جات) کی واپسی کی ذمہ داریاں، قرض کے خواہشمند فرد کی خالص ڈسپوز ایبل آمدنی (اخراجات کے بعد بچ جانے والی رقم) کے 65 فیصد سے زیادہ نہیں ہونی چاہئیں۔
ایسی جائیدادیں جن کی مارکیٹ مالیت 50 لاکھ روپے تک ہوان کی جانچ کے لیے بینک یا ایچ بی ایف سی ایل اپنے اندرونی ذرائع استعمال کرسکتے ہیں، تاہم 50 لاکھ روپے سے زائد کی مارکیٹ مالیت والی جائیدادوں کی صورت میں پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن (پی بی اے) کے منظور شدہ پینل پر موجود کم از کم ایک تخمینہ کار سے جائیداد کی جانچ کرانا لازمی ہوگی۔
فریم ورک کے مطابق بینک یا ایچ بی ایف سی ایل اسکیم کے تحت مکمل معلومات کے ساتھ درخواست موصول ہونے کی تاریخ سے کریڈٹ کی منظوری کے عمل کے لیے 15 ورکنگ ڈیز (دفتری ایام) سے زیادہ وقت نہیں لیں گے۔
مزید برآں، حکام نے فوری منظوریوں اور پروگرام کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کی خاطر اسکیم کی حد تک مخصوص پروڈینشل ریگولیشنز الخصوص ایچ ایف 3 اور ایچ ایف7 میں نرمی کردی ہے۔
مرکزی بینک نے بینکوں اور ایچ بی ایف سی ایل کو ہدایت کی ہے کہ ان ہدایات پر مکمل اور سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔