کاروبار اور معیشت

ایف پی سی سی آئی کا پنجاب انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس واپس لینے کا مطالبہ

  • سیس نے کاروباری برادری پر غیر ضروری مالی بوجھ ڈال دیا ہے، عاطف اکرام شیخ
شائع April 28, 2026 اپ ڈیٹ April 28, 2026 11:49am

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے 0.9 فیصد پنجاب انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس (پی آئی ڈی سی) کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا اور وزیراعلیٰ مریم نواز شریف سمیت دیگر اعلیٰ صوبائی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ اس لیوی (ٹیکس) کو بغیر کسی تاخیر کے ختم کریں۔

ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ اس سیس نے کاروباری برادری پر غیر ضروری مالی بوجھ ڈال دیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کسٹمز کلیئرنس کے آپریشنز کو کراچی سے پنجاب منتقل کیا جائے جس کے لیے صوبے کی آٹھ بڑی حد تک غیر فعال ڈرائی پورٹس کو دوبارہ بحال کیا جائے جن میں سے تین براہِ راست ریلوے ٹریک سے منسلک ہیں۔ انہوں نے اس موقف پر زور دیا کہ ان سہولتوں کو فعال کرنے سے کاروباری لاگت میں کمی آئے گی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

ایف پی سی سی آئی کے ریجنل چیئرمین ذکی اعجاز نے مشاہدہ کیا کہ سڑک کے ذریعے نقل و حمل کے مقابلے میں ریل کارگو زیادہ سستا ہے اور اس سے تاجروں کے لیے ڈیمریج چارجز میں نمایاں کمی ہو سکتی ہے۔ فیڈریشن نے سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اپنے اپنے صوبوں میں عائد اسی طرح کے ٹیکسز ختم کریں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026