پاکستان

نیپرا نے پاور سسٹم کی حفاظت اور قابلِ اعتماد کارکردگی کیلئے نئے قواعد جاری کر دیے

  • یہ قواعد ریگولیشن آف جنریشن، ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹری بیوشن آف الیکٹرک پاور ایکٹ 1997 کے تحت جاری کیے گئے ہیں
شائع April 28, 2026 اپ ڈیٹ April 28, 2026 09:23am

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے پاکستان کے پاور سسٹم میں تکنیکی نظم و ضبط، حفاظت اور قابلِ اعتماد کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے نئے قواعد جاری کیے ہیں، جو ایس آر او 936 (I)/2026 کے تحت ٹیکنیکل اسٹینڈرڈز فار گرڈ کنیکٹیویٹی ریگولیشنز 2026 کے نام سے نافذ کیے گئے ہیں۔

یہ قواعد ریگولیشن آف جنریشن، ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹری بیوشن آف الیکٹرک پاور ایکٹ 1997 کے تحت جاری کیے گئے ہیں اور فوری طور پر نافذ العمل ہیں۔ یہ تمام گرڈ سے منسلک بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں پر لاگو ہوں گے، تاہم ڈسٹری بیوٹڈ جنریٹرز اس سے مستثنیٰ ہیں۔

فریم ورک کے مطابق جو بھی جنریشن کمپنی قومی گرڈ سے کنکشن حاصل کرنا چاہے گی، اسے متعلقہ ٹرانسمیشن یا ڈسٹری بیوشن لائسنس یافتہ ادارے کے ذریعے ایک منظم منظوری کے عمل سے گزرنا ہوگا۔ اس میں تفصیلی تکنیکی ڈیٹا کی فراہمی، قواعد کی پابندی کی تحریری یقین دہانی اور باقاعدہ کنکشن معاہدے پر دستخط شامل ہوں گے۔

نئے قواعد میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ کوئی بھی پاور پلانٹ یا سہولت قومی گرڈ کے محفوظ اور قابلِ اعتماد آپریشن کو متاثر نہ کرے۔ تمام آلات اور انفرااسٹرکچر کو گرڈ کوڈ اور ڈسٹری بیوشن کوڈ کے مطابق ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ پورے شعبے میں یکساں تکنیکی معیار قائم کیا جا سکے۔

جنریٹرز کو اپنی تنصیبات اس انداز میں ڈیزائن اور چلانا ہوں گی کہ وہ بجلی کی محفوظ، قابلِ اعتماد، غیر امتیازی اور معاشی تقسیم (ڈسپیچ) میں معاون ہوں۔ درخواست کے وقت اور آپریشن کے دوران کنیکشن کوڈ اور دیگر تکنیکی معیارات کی سخت پابندی لازمی ہوگی۔

نئے قواعد کے تحت نیپرا کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ وہ درخواست دہندگان اور ٹرانسمیشن یا ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو ہدایات، رہنما اصول یا احکامات جاری کرے۔ ریگولیٹر ضرورت پڑنے پر ان ہدایات میں ردوبدل یا انہیں واپس لینے کا اختیار بھی رکھتا ہے۔ کسی بھی تنازع کی صورت میں معاملہ براہ راست نیپرا کو بھیجا جائے گا۔

مزید یہ کہ قواعد میں خلاف ورزی پر سزائیں بھی شامل کی گئی ہیں۔ کسی بھی شق، ہدایت یا حکم کی خلاف ورزی کو متعلقہ ایکٹ اور ریگولیٹری قوانین کے تحت نمٹایا جائے گا۔

توانائی کے شعبے کے ماہرین کے مطابق یہ اقدام بڑھتے ہوئے پیچیدہ پاور سسٹم کی نگرانی مضبوط بنانے، گرڈ کے استحکام کو بہتر کرنے اور نئے پاور منصوبوں کے ساتھ یکساں تکنیکی معیار یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026