بنگلہ دیش میں آسمانی بجلی گرنے سے 14 افراد ہلاک
- ملک کے مختلف علاقوں میں اچانک طوفانی بارشوں اور شدید گرج چمک کے باعث یہ افسوسناک واقعات پیش آئے
بنگلہ دیش میں موسمی گرج چمک کے دوران آسمانی بجلی گرنے سے کم از کم 14 افراد ہلاک ہو گئے۔ ملک کے مختلف علاقوں میں اچانک طوفانی بارشوں اور شدید گرج چمک کے باعث یہ افسوسناک واقعات پیش آئے۔
حکام کے مطابق ہلاکتیں مختلف اضلاع میں رپورٹ ہوئیں جہاں بارش کے ساتھ تیز آندھی اور بجلی کڑکنے کے واقعات سامنے آئے۔ زیادہ تر متاثرین کھلے کھیتوں میں کام کرنے والے کسان اور مزدور تھے جو غیر محفوظ مقامات پر موجود تھے اور آسمانی بجلی کی زد میں آ گئے۔
ان واقعات میں کئی افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
بنگلہ دیش میں ہر سال آسمانی بجلی گرنے کے باعث سینکڑوں افراد جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ حکومت نے 2016 میں آسمانی بجلی کو قدرتی آفت قرار دیا تھا، جب صرف مئی کے مہینے میں 200 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں ایک ہی دن میں 82 اموات شامل تھیں۔
ماہرین کے مطابق آسمانی بجلی سے ہونے والی ہلاکتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ جنگلات کی کٹائی ہے۔ درختوں کی کمی کے باعث وہ قدرتی نظام متاثر ہوا ہے جو پہلے بجلی کو زمین کی جانب موڑ دیتا تھا اور انسانوں کو محفوظ رکھتا تھا۔
یہ حادثات خاص طور پر اپریل سے جون کے دوران زیادہ پیش آتے ہیں، جب پری مون سون موسم میں درجہ حرارت اور نمی بڑھنے سے فضا غیر مستحکم ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں گرج چمک اور طوفانی بارشوں کا سلسلہ شدت اختیار کر لیتا ہے۔