مارکٹس

ایف پی سی سی آئی کا اسٹیٹ بینک سے شرح سود میں اضافہ نہ کرنے کا مطالبہ

  • یہ اقدام کاروباری سرگرمیوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے، عاطف اکرام شیخ
شائع April 27, 2026 اپ ڈیٹ April 27, 2026 12:15pm

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کےصدر عاطف اکرام شیخ نے اسٹیٹ بینک پر زور دیا ہے کہ وہ شرح سود میں اضافے سے گریز کرے۔

عاطف اکرام شیخ نے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے آج ہونے والے اجلاس سے قبل حکومت اور مرکزی بینک پر زور دیا ہے کہ موجودہ معاشی حالات کے پیش نظر شرح سود میں مزید اضافہ نہ کیا جائے کیونکہ یہ اقدام کاروباری سرگرمیوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدہ صورتحال کے باعث مہنگائی میں حالیہ اضافہ عارضی نوعیت کا ہے، اس لیے سخت مالیاتی پالیسی اپنانے کے بجائے معیشت کو سہارادینے والےفیصلوں کی ضرورت ہے۔

عاطف اکرام شیخ کے مطابق بلند شرح سود صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں کو سست کررہی ہے جسکے نتیجے میں سرمایہ کاری متاثر اور روزگار کے مواقع محدود ہو رہے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ سرمایہ کاری کے فروغ اور معیشت کی بحالی کے لیے شرح سود میں کمی ناگزیر ہو چکی ہے، آئندہ 12 ماہ کے دوران مہنگائی کی اوسط شرح تقریباً 7.5 فیصد رہنے کا امکان ہے، لہٰذا موجودہ سطح پر شرح سود برقرار رکھنا یا اس میں کمی کرنا زیادہ مناسب ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سخت مالیاتی پالیسی نہ صرف معاشی بحالی کی رفتار کو متاثر کرتی ہے بلکہ مہنگائی کے بنیادی اسباب کو بھی حل نہیں کر پاتی، عالمی سطح پر قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور خطے میں غیر یقینی صورتحال کےتناظر میں پاکستان کو ایک متوازن اور محتاط پالیسی اپنانا ہوگی۔

ایف پی سی سی آئی کے صدر نے اسٹیٹ بینک پر زور دیا کہ وہ مہنگائی، عالمی قیمتوں اور معاشی استحکام کے درمیان توازن قائم رکھتے ہوئے ایسا فیصلہ کرے جو کاروبار اور صنعت کے لیے سازگار ہو تاکہ معیشت کو درپیش چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026