مارکٹس

امریکا ایران مذاکرات میں تعطل، ڈالر کی قدر میں اضافہ

  • ڈالر انڈیکس 98.82 پر تقریباً مستحکم رہا اور ہفتہ وار بنیادوں پر 0.58 فیصد اضافے کی طرف بڑھ رہا ہے
شائع اپ ڈیٹ

امریکی ڈالر جمعہ کے روز مسلسل تیسرے ہفتے کے بعد پہلی بار ہفتہ وار بنیادوں پر اضافے کی طرف گامزن رہا، کیونکہ امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات میں تعطل نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے کی امیدوں کو کم کر دیا ہے۔

لبنان اور اسرائیل نے اگرچہ جنگ بندی میں تین ہفتوں کی توسیع کر دی ہے، تاہم ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں اپنے کنٹرول کی نمائش اور کارگو جہاز پر کمانڈوز کے حملے کی ویڈیو جاری کرنے کے بعد عالمی شپنگ راستے کی بحالی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، جس کے باعث تیل کی قیمتیں بلند سطح پر رہیں۔

ڈالر انڈیکس 98.82 پر تقریباً مستحکم رہا اور ہفتہ وار بنیادوں پر 0.58 فیصد اضافے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یورو 1.1683 ڈالر جبکہ برطانوی پاؤنڈ 1.3464 ڈالر پر معمولی کمی کے ساتھ ٹریڈ ہوا۔

مارکیٹ ماہرین کے مطابق تیل اور ڈالر کی قیمتیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں، اور خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ڈالر کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔

ادھر جاپانی ین مسلسل پانچویں روز کمزور ہو کر 159.77 فی ڈالر پر آ گیا ہے۔ جاپانی حکام نے کرنسی مارکیٹ میں ممکنہ مداخلت کا عندیہ دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ قیاس آرائی پر مبنی حرکتوں کے خلاف سخت اقدام کیا جا سکتا ہے۔

جاپان کے مرکزی بینک کے اجلاس میں بھی شرح سود میں فوری اضافے کے امکانات کم قرار دیے جا رہے ہیں، تاہم مہنگائی کے دباؤ کے باعث مستقبل میں سخت پالیسی کا امکان موجود ہے۔

دوسری جانب آسٹریلین اور نیوزی لینڈ ڈالر میں معمولی اضافہ دیکھا گیا، جبکہ ابھرتی ہوئی ایشیائی کرنسیوں پر ڈالر کا دباؤ برقرار ہے۔ کرپٹو مارکیٹ میں بھی بٹ کوائن اور ایتھریم کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔