عالمی منڈی سے فنڈز کا حصول، پاکستان کا جی ایم ٹی این اور سکوک پروگرامز کی تجدید کا فیصلہ
- حکومت مختلف بین الاقوامی مالیاتی ذرائع سے فنڈز حاصل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، وزارت خزانہ
حکومت بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں سے فنڈز کے حصول کے لیے اپنے گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ (جی ایم ٹی این) اور سکوک ٹی سی آئی پروگرامز کی مدت میں تین سال کی توسیع کا ارادہ رکھتی ہے۔
وزارتِ خزانہ کے ڈیبٹ مینجمنٹ آفس کی جانب سے شیئر کی گئی دستاویزات کے مطابق حکومت مختلف بین الاقوامی مالیاتی ذرائع سے فنڈز حاصل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جن میں یورو بانڈز، بین الاقوامی سکوک اور روپے کی مالیت کے وہ بین الاقوامی بانڈز شامل ہیں جن کی ادائیگی امریکی ڈالر میں کی جائے گی۔
دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ان مالیاتی ذرائع کے اجرا کے وقت کا تعین مارکیٹ کی موجودہ صورتحال پر منحصر ہوگا جیسا کہ منتخب کردہ ٹرانزیکشن ایڈوائزرز کی جانب سے مشورہ دیا جائے گا۔
وزارتِ خزانہ تین کنسورشیم تشکیل دینے کا ارادہ رکھتی ہے جن میں درج ذیل شامل ہوں گے: (i) گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ (جی ایم ٹی ان) پروگرام کے تحت یورو بانڈز اور دیگر بین الاقوامی بانڈز کے اجرا کے لیے: (ii) سکوک ٹی سی آئی پروگرام کے تحت بین الاقوامی سکوک کے اجرا کے لیے: اور (iii) روپے کی مالیت والے لیکن امریکی ڈالر میں سیٹل ہونے والے بین الاقوامی بانڈز کے لیے۔
دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ان کنسورشیمز کی خدمات حکومتِ پاکستان کی فنڈنگ کی ضروریات سے مشروط ہیں اور ہر اجرا کے حجم کا تعین عمل درآمد کے وقت مارکیٹ کی صورتحال کے مطابق کیا جائے گا۔
مزید بتایا گیا کہ منتخب کردہ کنسورشیمز سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ ان پروگرامز سے وابستہ تمام تر سرگرمیوں کی تشکیل، مشاورت، انتظام، ہم آہنگی اور عمل درآمد کی ذمہ داری سنبھالیں گے۔
پہلا کنسورشیم پانچ روایتی بین الاقوامی مالیاتی اداروں پر مشتمل ہوگا، جنہیں یورو بانڈز کے اجرا کے لیے بطور جوائنٹ لیڈ منیجرز/ انڈر رائٹرز اور بُک رنرز مقرر کیا جائے گا۔
کنسورشیم مشترکہ طور پر اسٹرکچرنگ، قیمتوں کے تعین، انڈر رائٹنگ، سنڈیکیٹ مینجمنٹ، سرمایہ کاروں تک رسائی، روڈ شوز، بک بلڈنگ اور ایلوکیشن کا ذمہ دار ہوگا تاکہ وسیع پیمانے پر بین الاقوامی تقسیم اور اعلیٰ معیار کی آرڈر بکس کو یقینی بنایا جاسکے۔
دوسرا کنسورشیم پانچ بین الاقوامی مالیاتی اداروں پر مشتمل ہوگا جس میں کم از کم ایک بین الاقوامی اسلامی مالیاتی ادارہ شامل ہوگا، انہیں بین الاقوامی سکوک کے اجرا کے لیے بطور جوائنٹ لیڈ منیجرز/ انڈر رائٹرز اوربُک رنرز مقرر کیا جائے گا۔
اس میں مزید کہا گیا کہ کنسورشیم مشترکہ طور پر اسٹرکچرنگ، قیمتوں کے تعین، انڈر رائٹنگ، سنڈیکیٹ مینجمنٹ، سرمایہ کاروں تک رسائی، روڈ شوز، بک بلڈنگ اور ایلوکیشن کا ذمہ دار ہوگا تاکہ وسیع پیمانے پر بین الاقوامی تقسیم اور اعلیٰ معیار کی آرڈر بکس کو یقینی بنایا جاسکے۔
آئی ایم ایف نے دسمبر 2025 میں ای ایف ایف کے دوسرے جائزے کے بعد جاری کردہ اپنی رپورٹ میں مالی سال 2025-26 کے لیے پاکستان کی مجموعی بیرونی مالیاتی ضروریات کا تخمینہ 19.398 ارب ڈالر (جی ڈی پی کا 4.6 فیصد) لگایا ہے جس کے بعد مالی سال 2026-27 میں یہ ضروریات 19.123 ارب ڈالر ہوں گی۔