کاروبار اور معیشت

محمد اورنگزیب کی چینی ہم منصب اور دیگر عالمی رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں

  • وزیر خزانہ نے اپنے چینی ہم منصب کو آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پاکستان کی پیشرفت سے آگاہ کیا
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واشنگٹن ڈی سی میں عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے موسمِ بہار اجلاسوں کے دوران اپنی اعلیٰ سطح مصروفیات کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس موقع پر انہوں نے عالمی مالیاتی رہنماؤں، ترقیاتی شراکت داروں اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں سے اہم دوطرفہ ملاقاتیں کیں جبکہ ممتاز امریکی اور عالمی میڈیا سے بھی گفتگو کی۔

وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیزکے مطابق وزیرِخزانہ نے اپنے چینی ہم منصب لان فوآن کے ساتھ ملاقات میں پاکستان کے لیے بیجنگ کی دیرینہ اور غیر متزلزل حمایت پراظہار تشکر کیا۔

انہوں نے آئی ایم ایف میں چین کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے تعمیری کردار کو بھی سراہا جنہوں نے پاکستان کے پروگرام کے معاملات (پروگرام انگیج منٹس) کو آسان بنانے میں تعاون فراہم کیا۔

پریس ریلیز کے مطابق وزیر خزانہ نے اپنے چینی ہم منصب کو آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پاکستان کی پیشرفت سے آگاہ کیا جس میں ای ایف ایف ریویو اور آر ایس ایف ریویو کے لیے اسٹاف لیول معاہدے کی کامیاب تکمیل بھی شامل ہے۔ اس حوالے سے آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری مئی کے اوائل میں متوقع ہے۔

محمد اورنگزیب نے پاکستان کے پہلے پانڈا بانڈ کے اجرا کے حوالے سے تازہ ترین صورتحال سے بھی آگاہ کیا اور رن منبی میں طے پانے والے دوطرفہ تجارت کے بڑھتے تناسب پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے تجارت کے بڑھتے حجم کو سہارا دینے کے لیے کرنسی سواپ کی سہولت میں توسیع کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

انہوں نے جاری علاقائی تنازع میں پاکستان کے فعال ثالثی کے کردار کے اعتراف پر چین کا شکریہ ادا کیا اور شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی آئندہ صدارت کے دوران پاکستان کی جانب سے ایس سی او ڈویلپمنٹ بینک کے قیام کے لیے مکمل اور غیر مشروط حمایت کا اعادہ کیا۔

ملاقات کا اختتام آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک دونوں فورمز پر مسلسل تعاون کے باہمی اعتراف کے ساتھ ہوا۔

مزید برآں محمد اورنگزیب نے گورنر پیپلز بینک آف چائنا ڈاکٹر پان گونگ شینگ سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران وزیر خزانہ نے جاری علاقائی تنازع کے معاشی اثرات سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی فعال پالیسی اقدامات بشمول ٹارگٹڈ سبسڈیز اور ڈیمانڈ مینجمنٹ کے اقدامات پر روشنی ڈالی۔

وزیرِ خزانہ کی انٹرنیشنل فنڈ فار ایگریکلچرل ڈیولپمنٹ کے صدر سے ملاقات

انٹرنیشنل فنڈ فار ایگریکلچرل ڈویلپمنٹ کے صدر الوارو لاریو کے ساتھ ملاقات میں محمد اورنگزیب نے زراعت کو قومی ترجیح قرار دیا جب کہ پیداواری صلاحیت اور ویلیو چین کی ترقی میں درپیش ساختی چیلنجز کا کھلے دل سے اعتراف کیا۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق انہوں نے زرعی تبدیلی پر مرکوز حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے پر روشنی ڈالی جس میں قیادت کی تنظیمِ نو، بین الاقوامی تربیت کے ذریعے صلاحیتوں میں اضافہ اور اہم اجناس کے شعبوں کو ریگولیٹری پابندیوں سے آزاد کرنا شامل ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ دونوں جانب سے فنانسنگ کے جدید طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا جس میں نجی شعبے کے ساتھ مشترکہ سرمایہ کاری کا آئی ایف اے ڈی کا ابھرتا ہوا ماڈل بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ ایشیائی ترقیاتی بینک اور عالمی بینک کی ممکنہ مشترکہ مالی معاونت کے ساتھ ایک زیادہ منظم شراکت داری کے فریم ورک پر بھی اتفاق کیا گیا۔

وزیرخزانہ نے جاری عالمی رکاوٹوں کے پیش نظر کھاد کی سپلائی کو لاحق نئے خطرات پر بھی روشنی ڈالی۔

وزیر خزانہ کی آئی ایم ایف کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر سے ملاقات

وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے بہار اجلاس 2026 کے موقع پر آئی ایم ایف کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر نائجل کلارک سے ملاقات کی۔

ملاقات کے دوران وزیر خزانہ نے پاکستان کی بیرونی مالی ضروریات، آئی ایم ایف پروگرام پر عملدرآمد اور مجموعی معاشی صورتحال پر بریفنگ دی اور بتایا کہ اہم معاشی اشاریے مجموعی طور پر درست سمت میں ہیں۔

وزیر خزانہ نے پاکستان کی مالیاتی حکمت عملی سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مالی ذرائع کو متنوع بنانے پر کام کررہی ہے جس میں پانڈا بانڈ، یورو بانڈ اور مقامی کرنسی میں فنانسنگ کے ذریعے زرمبادلہ کے خطرات کم کرنے کی کوشش شامل ہے۔

سینیٹر اورنگزیب نے پاکستان کے پروگرام پر عملدرآمد اور مالیاتی حکمت عملی کے حوالے سے نائجل کلارک کے مثبت جائزے کو سراہا، خاص طور پر مختلف مالی ذرائع پیدا کرنے کی کوشش کو اہم قرار دیا۔

دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ علاقائی اور عالمی حالات کے اثرات طویل عرصے تک برقرار رہ سکتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ شرح مبادلہ میں لچک برقرار رکھی جائے اور مالی گنجائش محفوظ رکھی جائے، بجائے اس کے کہ خطرناک قرض لے کر ترقی کو سہارا دیا جائے۔

وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف کے مشن کی آئندہ ماہ پاکستان آمد کا بھی خیرمقدم کیا جو بجٹ اور دیگر پروگرام سے متعلق امور کا جائزہ لے گا۔

دریں اثنا وزیرِ خزانہ نے موڈیز روتھس چائلڈ اینڈ کمپنی کے سینئر نمائندوں اور اوپیک فنڈ فار انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عبدالحمید الخلیفہ سے بھی الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

انہوں نے جے پی مورگن کے زیرِ اہتمام ایک سرمایہ کاری سیمینار بعنوان پاکستان: معاشی اور مانیٹری پالیسی آؤٹ لک میں بھی شرکت کی اور ممتاز امریکی و بین الاقوامی میڈیا اداروں کے نمائندوں سے بھی گفتگو کی۔