اماراتی کمپنی کی پاکستانی طیارہ ساز فرم کو خریدنے کی منظوری، سی سی پی کا گرین سگنل
کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے متحدہ عرب امارات میں قائم انٹرنیشنل بزنس کمپنی ایف زیڈ ای کی جانب سے ناردرن ٹیکنیک (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے حصص حاصل کرنے کی منظوری دے دی ہے، جس سے پاکستان کے ایوی ایشن سروسز سیکٹر میں نئی غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
پریس ریلیز کے مطابق انٹرنیشنل بزنس کمپنی ایف زیڈ ای جو 2010 میں یو اے ای میں قائم ہوئی تھی، تجارت، درآمد و برآمد اور بزنس و مارکیٹنگ کنسلٹنسی کے شعبوں میں کام کرتی ہے۔ دوسری جانب 2018 میں پاکستان میں قائم ہونے والی کمپنی ناردرن ٹیکنیک، ملک میں کام کرنے والے تجارتی طیاروں کو لائن مینٹیننس (مرمت اور دیکھ بھال) کی خدمات فراہم کرتی ہے۔
اس سودے میں فروخت کنندہ کمپنی اسپارس (پرائیویٹ) لمیٹڈ ہے، جو ایک متنوع مقامی ادارہ ہے اور ایوی ایشن، ٹیلی کام، ریئل اسٹیٹ، فارماسیوٹیکل، آئی ٹی، کنسٹرکشن اور انجینئرنگ سروسز میں مفادات رکھتا ہے۔
سی سی پی نے کمپٹیشن ایکٹ 2010 کے سیکشن 11 کے تحت فیزون کا جائزہ لیا اور متعلقہ مارکیٹ کی تعریف پاکستان میں ایئر کرافٹ لائن مینٹیننس سروسز کے طور پر کی۔ مارکیٹ میں اس وقت متعدد سروس فراہم کنندگان موجود ہیں اور کئی ایئر لائنز کی اپنی اندرونی مرمتی سہولتیں بھی کام کر رہی ہیں۔
کمیشن نے نوٹ کیا کہ خریدار اور فروخت ہونے والی کمپنی کے درمیان کاروباری لحاظ سے کوئی کاروباری ٹکراؤ موجود نہیں ہے اور یہ فیصلہ کیا کہ اس لین دین سے مارکیٹ کے ڈھانچے میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی، نہ ہی کسی کی اجارہ داری قائم ہوگی اور نہ ہی نئے آنے والوں کے لیے رکاوٹیں پیدا ہوں گی۔
اپنے جائزے کی بنیاد پر سی سی پی نے نتیجہ اخذ کیا کہ اس سودے سے مسابقت کے حوالے سے کوئی خدشات پیدا نہیں ہوتے اور اسے کمپٹیشن ایکٹ 2010 کے سیکشن 31(1)(ڈی)(آئی) کے تحت منظور کر لیا۔
کمیشن نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ شفاف اور موثر طریقہ کار کے ذریعے سرمایہ کاری کی سہولت فراہم کرنے اور مارکیٹ میں منصفانہ ماحول برقرار رکھنے کے لیے کوشاں ہے۔