ایک ہی نشست میں کسی معاہدے کی توقع نہیں تھی، ایرانی اسپیکر
- امریکہ فیصلہ کرے کہ وہ ایران کا اعتماد حاصل کرنا چاہتا ہے یا نہیں، محمد باقر قالیباف
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے محض ایک دور میں کسی معاہدے کی توقع نہیں تھی۔ انہوں نے پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے حالیہ بالواسطہ مذاکرات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان موجود اعتماد کے فقدان پر زور دیا۔
اسلام آباد سے روانگی کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں قالیباف نے کہا کہ ایران نے خیر سگالی اور سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا تھا، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ماضی کے تلخ تجربات تہران کے محتاط رویے کی بنیاد ہیں۔
انہوں نے کہا مذاکرات سے قبل ہم نے یہ واضح کر دیا تھا کہ اگرچہ ہمارے پاس ضروری خیر سگالی موجود ہے لیکن ماضی کے تجربات کی روشنی میں مخالف فریق پر ہمارا بھروسہ محدود ہے۔ انہوں نے مزید نوٹ کیا کہ مذاکرات کے دوران ایرانی تجاویز مطلوبہ اعتماد پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔
باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ اب واشنگٹن ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ اب یہ امریکہ کو طے کرنا ہے کہ آیا وہ ہمارا اعتماد حاصل کر سکتا ہے یا نہیں۔ایران کی حکمتِ عملی کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قومی مفادات کے تحفظ کے لیے عسکری تیاریوں کے ساتھ ساتھ سفارت کاری کا سلسلہ جاری رہے گا۔ ان کے بقول ہم عوامی حقوق کے دفاع کے لیے عسکری مزاحمت کے ساتھ ساتھ طاقت کے ساتھ سفارت کاری کو ایک اہم طریقہ کار سمجھتے ہیں۔
ایرانی اسپیکر نے مذاکرات کی سہولت فراہم کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے ایک دوست اور برادر ملک قرار دیا جس نے دونوں فریقین کے درمیان مکالمے کو آسان بنانے میں مدد کی۔ یہ ریمارکس اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے اعلیٰ سطح کے بالواسطہ مذاکرات کے بعد سامنے آئے ہیں جو کسی بڑی پیش رفت کے بغیر ختم ہو گئے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان گہرے اختلافات واضح ہوتے ہیں۔
باقر قالیباف نے ایرانی عوام کی استقامت اور قومی اتحاد کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات اور حالیہ تناؤ کے دوران عوام نے بھرپور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے۔