پاکستان

وزارت خارجہ نے یو اے ای کو ڈپازٹس کی واپسی معمول کی مالیاتی کارروائی قرار دیدی

  • ڈپازٹس پاکستان کی معاشی استحکام میں مدد کے لیے رکھے گئے تھے، بیان
شائع اپ ڈیٹ

وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں متحدہ عرب امارات ( یو اےای) کے مالیاتی ڈپازٹس سے متعلق ”گمراہ کن اور بے بنیاد“ تبصروں کو مسترد کر دیا۔

دفتر خارجہ کے ایک سرکاری بیان میں وضاحت کی گئی ہے کہ ان ڈپازٹس کی واپسی ایک ”معمول کی مالیاتی لین دین“ ہے جو باہمی طور پر طے شدہ دوطرفہ تجارتی شرائط کے تحت انجام دی جا رہی ہے۔ وزارت نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ڈپازٹس پاکستان کے معاشی استحکام اور خوشحالی کو سہارا دینے کے لیے رکھے گئے تھے۔

بیان میں کہا گیا: ”باہمی اتفاق شدہ شرائط کے تحت حکومتِ پاکستان، اسٹیٹ بینک کے ذریعے، اب ان میچور ہونے والے ڈپازٹس کو متحدہ عرب امارات کو واپس کر رہی ہے“، اور مزید کہا گیا کہ اس اقدام کو کسی اور انداز میں پیش کرنا ”غلط اور گمراہ کن“ ہے۔

دفترِ خارجہ نے دوطرفہ گہرے تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات ایک دیرینہ اور بھائی چارے پر مبنی شراکت داری رکھتے ہیں، جو تجارت، سرمایہ کاری اور دفاع کے شعبوں میں اسٹریٹجک تعاون پر مبنی ہے۔

بیان میں مرحوم شیخ زاید بن سلطان النہیان کو اس دیرپا دوستی کے قیام میں ان کے اہم کردار اور پاکستان کے لیے ان کے خصوصی جذبے کے اعتراف میں خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔

وزارتِ خارجہ نے کہا کہ پاکستان متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے تاکہ ”مشترکہ اور خوشحال مستقبل“ یقینی بنایا جا سکے۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب حکومتِ پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو 2 ارب امریکی ڈالر کی ادائیگی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بزنس ریکارڈر نے ہفتے کے روز قابل اعتماد ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ یہ بڑی واپسی رواں ماہ کے آخر تک مکمل کی جائے گی۔

اہلکاروں کے مطابق یہ رقم اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں محفوظ ڈپازٹ کے طور پر رکھی گئی تھی اور اس پر تقریباً 6 فیصد سود کی شرح لاگو تھی، جس کی وجہ سے یہ ملک کے لیے نسبتاً مہنگی پڑ رہی تھی۔

سینیئر اہلکاروں کے مطابق متحدہ عرب امارات نے پہلے اس ڈپازٹ کو سالانہ بنیاد پر بڑھایا تھا۔

تاہم، حالیہ مہینوں میں رول اوور کی شرائط مختصر کر دی گئی ہیں، جس میں دسمبر 2025 میں یہ سہولت ایک ماہ کے لیے اور بعد میں ماہانہ بنیاد پر بڑھائی گئی۔