طاقت کے زور پر آبنائے ہرمز کھلوانا غیر حقیقی ہے، فرانسیسی صدر

  • کچھ حلقے فوجی آپریشن کے ذریعے طاقت کے بل پر آبنائے ہرمز کو آزاد کرانے کے خیال کی حمایت کر رہے ہیں، ایمانوئل میکخواں
شائع April 2, 2026 اپ ڈیٹ April 2, 2026 06:42pm

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو فوجی طاقت کے ذریعے کھلوانا غیر حقیقی سوچ ہے، ان کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اتحادیوں کو آبی گزرگاہ کھلوانے کے چیلنج کے جواب میں سامنے آیا ہے۔

28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد شروع ہونے والے تنازع میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ تہران نے عالمی تیل اور گیس کی سپلائی کے لیے اہم اس راستے کو بند کر رکھا ہے۔

جنوبی کوریا کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایمانوائل میکخواں نے کہا کہ کچھ حلقے فوجی آپریشن کے ذریعے آبنائے ہرمز کو آزاد کرانے کی حمایت کر رہے ہیں، لیکن فرانس نے کبھی اس آپشن کی تائید نہیں کی کیونکہ یہ انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی کسی بھی مہم جوئی میں طویل وقت لگے گا اور وہاں سے گزرنے والے جہازوں کو ایرانی پاسدارانِ انقلاب اور بیلسٹک میزائلوں کے سنگین خطرات لاحق ہوں گے۔

میکخواں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کی بحالی صرف ایران کے ساتھ مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے نیٹو اور دیگر اتحادیوں پر ٹرمپ کی تنقید کے حوالے سے کہا کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے اپنے طور پر کیے گئے فیصلوں پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ کی جانب سے ان کی اہلیہ سے متعلق نازیبا ریمارکس اس حساس وقت کے لحاظ سے بالکل بھی مناسب نہیں تھے۔